BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
آر ایس ایس کیا ہے
آر ایس ایس کیا ہے
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: Tuesday, 24 April, 2007, 03:10 GMT 08:10 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
یلسن کے انتقال پر سوگ کا اعلان
بورس یلسن اور پوتن
بورس یلسن مغربی طاقتوں کے ایک قابل اعتماد اتحادی رہے
روسی صدر ولادیمر پوتن نے انتقال کر جانے والے اپنے پیشرو بورس یلسن کو زبردست خراج عقیدت پیش کرتے ہوئے کہا ہے کہ ان کے دور میں روس ایک ایسے عہد میں داخل ہوا جس میں عوام طاقت کا سرچشمہ بنے۔

بورس یلسن کی موت کے بعد ٹیلی ویژن پر خطاب کرتے ہوئے صدر پوتن نے کہا ’ہم پوری کوشش کریں گے کہ بورس یلسن کی یاد اور ان کے خیالات و افکار ہمارے لیے اخلاقی اور سیاسی طور مشعل راہ بنے رہیں‘۔

انہوں نے کہا کہ وہ ایک صاف گو اور بے باک قومی رہنماء تھے۔

چھہتر سالہ بورس یلسن پیر کو ماسکو کے ایک ہسپتال میں حرکت قلب بند ہو جانے کے باعث انتقال کر گئے تھے۔ ان کی آخری رسومات بدھ کو ماسکو ہی میں ادا کی جائیں گی۔ اس موقعہ پر قومی سوگ کا اعلان کیا گیا ہے۔

بورس یلسن کی موت پر پوری دنیا سے ان کے چاہنے والوں اور مخالفین نے تعزیتی پیغامات جاری کیے ہیں۔

سوویت یونین کے آخری رہنماء میخائل گورباچوف نے اپنے تعزیتی پیغام میں کہا ہے کہ یلسن کئی بہتر کاموں کے ساتھ ساتھ ایسی سنگین غلطیوں کے بھی ذمہ دار ہیں جن کے ملک پر گہرے اثرات مرتب ہوئے۔

امریکی صدر جارج بش نے بورس یلسن کو ایک تاریخی ہستی قرار دیتے ہوئے کہا ہے کہ انہوں نے یادگار تبدیلیوں کے عہد میں اپنے ملک کی خدمت کی۔

سنگین غلطیاں
 یلسن کئی بہتر کاموں کے ساتھ ساتھ ایسی سنگین غلطیوں کے بھی ذمہ دار ہیں جن کے ملک پر گہرے اثرات مرتب ہوئے
گورباچوف

انیس سو اکانوے میں سوویت یونین کے خاتمے کے بعد بورس یلسن روس کے پہلے منتخب صدر کے طور پر عالمی افق پر سامنے آئے اور وہ انیس سو ننانوے تک اسی عہدے پر فائز رہے۔

یلسن اپنے سیاسی کیریئر کے آغاز میں اگرچے ایک پکے اشتراکیت پسند رہے لیکن بعد میں انہیں روس میں جمہوریت کے ایک علمبردار کے طور پر شہرت ملی۔

صدرات کے آخری سالوں میں اگرچہ بگڑتی ہوئی صحت اور کثرت شراب نوشی نے اندرون ملک بورس یلسن کی کارکردگی کو بری طرح متاثر کیے رکھا لیکن اس عرصے میں بھی وہ مغربی طاقتوں کے ایک قابل اعتماد اتحادی رہے۔

انہوں نے سنہ 1999 کے آخری دنوں میں ریٹائرمنٹ کا اعلان کیا اور خفیہ سروس ایف ایس بی کے سربراہ ولادیمر پوتن کو اپنا جانشین مقرر کیا۔

ان کے آٹھ سالہ عہد صدارت کے دوران روس میں بڑی تبدیلیاں آئیں۔ انہوں نے کیمونسٹ پارٹی پر پابندی لگائی، ایک نیا آئیں متعارف کرایا جس کے تحت اختیارات قصر صدارت میں مرتکز ہو گئے اور بڑے پیمانے پر نجکاری بکا عمل بھی شروع کیا۔

یلسن کے دور میں روسی عوام کو ایسی سیاسی اور شہری آزادیاں حاصل ہوئیں جن سے وہ پہلے نا آشنا تھے۔ لیکن مبصرین کے مطابق تاریخ میں انہیں چیچنیا میں بغاوت کچلنے کے لیے سنہ 1994 میں ایک سفاکانہ آپریشن شروع کرنے کے حوالے سے زیادہ یاد رکھا جائے گا۔

بورس یلسنیلسن رخصت ہوئے
’بورس یلسن کی سب سے قریبی مشیر ووڈکا تھی‘
اسی بارے میں
بورس یلسن انتقال کر گئے
23 April, 2007 | آس پاس
پیوتن کا ستارہ بلند
13 March, 2004 | آس پاس
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد