پوتن کا بیان، نیٹو کی مذمت | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
نیٹو نے روسی صدر کے اس بیان کی مذمت کی ہے جس میں انہوں نے خبردار کیا تھا کہ اگر امریکہ مشرقی یورپ میں اپنا میزائل دفاعی نظام بنانے سے باز نہ آیا تو روس ایک مرتبہ پھر اپنے میزائلوں کا رخ یورپ کی جانب موڑ سکتا ہے۔ روسی صدر نے ایران کو امریکہ کے لیے خطرہ نہ قرار دیتے ہوئے یہ اشارہ دیا تھا کہ امریکی میزائل نظام کا نشانہ دراصل روس ہے۔ نیٹو کے ترجمان جیمز اپاتورائے کا کہنا تھا’روس وہ واحد ملک ہے جو یورپ کو میزائلوں سے نشانہ بنانے کی قیاس آراییاں کر رہا ہے اور اس قسم کے بیانات غیر معاون ہیں‘۔ ولادی میر پوتن کے اس بیان پر مغربی ممالک کی جانب سے تشویش کا اظہار کیا گیا ہے اور فرانس کے نو منتخب صدر نکولس سرکوزی نے روسی صدر سے اس معاملے پر بات کرنے کا اعلان کیا ہے۔ تاہم روسی صدر کے ترجمان نے اس معاملے کو دبانے کے لیے کہا ہے کہ روسی رہنما کا بیان’ایک فرضی سوال کا فرضی جواب تھا‘۔ امریکہ اپنے دفاعی منصوبے کے تحت پولینڈ میں ’انٹرسپٹر راکٹ‘ اور جمہوریہ چیک میں ایک ریڈار اڈہ قائم کرنا چاہتا ہے اور اس کا کہنا ہے کہ یہ تنصیبات شمالی کوریا اور ایران جیسے ممالک سے لاحق ممکنہ خطرے کے مقابلے کے لیے ضروری ہیں۔ | اسی بارے میں ’یورپ پھر روسی نشانے پر آ سکتا ہے‘03 June, 2007 | آس پاس میزائل نظام نصب کریں گے: رائس15 May, 2007 | آس پاس امریکی میزائل پر روس کا ردعمل 19 February, 2007 | آس پاس امریکہ’بہت خطرناک‘ ہے: پوتن10 February, 2007 | آس پاس امریکہ: میزائل کا کامیاب تجربہ02 September, 2006 | آس پاس | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||