مشرقی جرمنی: لڑکیاں گئیں، لڑکے مایوس | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
سابقہ مشرقی جرمنی میں نوجوان لڑکیاں بہتر مستقبل کے لیے نئی جگہوں پر جا کر بس رہی ہیں اور پیچھے رہ جانے والے نوجوان لڑکے مایوسی کا شکار ہیں۔ جرمنی میں ’بہت زیادہ مرد‘ کے عنوان سے شائع ہونے والے ایک تجزیے میں کہا گیا ہے کہ بڑی تعداد میں لڑکیاں مغربی جرمنی یا دوسرے ممالک کو جا چکی ہیں۔ تجزیہ ادارہ برائے بہبود آبادی کی طرف سے شائع کیا گیا ہے۔ یہ عام بات ہے کہ کمیونزم کے خاتمے کے بعد سے سابقہ مشرقی جرمنی سے بڑی تعداد میں لوگ دوسرے علاقوں کو جاتے رہے ہیں۔ ایسے لوگوں کی تعداد پندرہ لاکھ کے قریب بتائی جاتی ہے جو کہ سابقہ مشرقی جرمنی کی کل آبادی کا دس فیصد ہے۔ بیرون ممالک جانے والوں میں زیادہ تر افراد کی عمر پینتیس سال یا اس سے کم ہے اور نسبتاً بہتر تعلیم یافتہ ہیں۔ زیادہ لڑکیوں کے چلے جانے سے لڑکے جو اکثر بیروزگار ہیں مایوسی کا شکار ہیں اور آسانی سے نیو نازی گروپوں کی طرف مائل ہو جاتے ہیں۔ زیادہ لڑکیوں کے باہر جانے کی ایک وجہ ان کا زیادہ تعلیم یافتہ ہونا بتائی جاتی ہے۔ رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ ملک میں مردوں اور خواتین کی تعداد میں اس عدم توازن کی وجہ سے شرح پیدائش میں بھی کمی آئی ہے۔ | اسی بارے میں مرکل، پہلی خاتون جرمن چانسلر22 November, 2005 | آس پاس جرمنی: دائیں بازو کی کامیابی17 September, 2006 | آس پاس | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||