مرکل، پہلی خاتون جرمن چانسلر | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
جرمن پارلیمان نے قدامت پسند مسیحی جمہوری جماعت کی رہنما انجیلا مرکل کو ملک کی پہلی خاتون چانسلر منتخب کر لیا ہے۔ انجیلا مرکل پہلی خاتون چانسلر ہونے کے علاوہ ملک کےسابقہ کمیونسٹ مشرقی علاقے سے تعلق رکھنے والی پہلی شخصیت ہیں جو چانسلر کے عہدے تک پہنچی ہیں۔ انجیلا اب صدارتی محل سے اپنی نامزدگی کا خط حاصل کریں گی جس کے بعد منگل کو ان کی حلف برداری کی تقریب ہوگی۔ انجیلا سابقہ حکمران جماعت سوشل ڈیموکریٹس کے ساتھ مل کر مخلوط حکومت تشکیل دیں گی۔ جرمن پارلیمان کے تین سو ستانوے اراکین نےانجیلا کے حق میں ووٹ دیا جب کہ حکمران جماعت کے اکاون ارکان نے ان کی مخالفت میں ووٹ ڈالا۔ برلن سے بی بی سی کے نمائندے کا کہنا ہے کہ ان اراکین کی مخالفت کا مطلب ہے کہ انجیلا کو مستقبل میں مشکل حالات کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے۔ انجیلا مرکل نے جرمن معیشت کو دوبارہ زندہ کرنے کا اعلان کیا ہے تاہم انہوں نے زیادہ کمائی والے افراد کے لیے ٹیکس میں کمی کا معاملہ فی الحال ملتوی کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔ انجیلا بطور جرمن چانسلر بدھ کو اپنے پہلے غیر ملکی دورے پر پیرس اور برسلز بھی جائیں گی۔ بی بی سی کے نامہ نگار کے مطابق انجیلا کی مخلوط حکومت میں شامل جماعتوں نے جرمن بجٹ کا خسارہ کم رکنے کے لیے اخراجات میں کمی اور محصولات مںی اضافے کا فیصلہ کیا ہے۔ نامہ نگار کا یہ بھی کہنا ہے کہ اگرچہ نئی جرمن چانسلر کی خارجہ پالیسی کا جھکاؤ سابقہ چانسلر کی نسبت امریکہ کی جانب زیادہ ہے پھر بھی متوقع حکمران جماعتوں میں اس سلسلے میں زیادہ اختلافات نہیں پائے جاتے۔یاد رہے کہ سابقہ جرمن چانسلر گیرہارڈ شروڈر نے عراق میں جنگ کی مخالفت کی تھی۔ سیاسی تجزیہ نگاروں کا کہنا ہے کہ انجیلا مرکل کو مخلوط حکومت کامیابی سے چلانے کے لیے نہ صرف مزدور یونینوں کو چھوٹ دینا پڑے گی بلکہ کلیدی وزاتیں بھی سوشل ڈیموکریٹ رہنماؤں کو دینا پڑیں گی۔ | اسی بارے میں جرمنی: مخلوط حکومت سازی 19 September, 2005 | آس پاس جرمنی میں مخلوط حکومت سازی 18 September, 2005 | آس پاس جرمن انتخابات: مقابلہ سخت ہے17 September, 2005 | آس پاس ایران پر امریکہ کو جرمنی کا انتباہ13 August, 2005 | آس پاس | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||