جرمن انتخابات: مقابلہ سخت ہے | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
جرمنی میں اتوار کو ہونے والے انتخابات کے لیے برسراقتدار چانسلر گیرہارڈ شروڈر اور کرسچین ڈیموکریٹ لیڈر اینجیلا میرکل کے درمیان سخت مقابلے کی توقع ہے۔ چھ ہفتوں سے جاری انتخابی مہم سنیچر کو اختتام پذیر ہو چکی ہے۔ دونوں امیدواروں نےملک کےمغربی حصے میں بسنے والی ووٹروں کی اہم آبادی کو انتخابی مہم میں متاثر کرنے کی بھرپور کوشش اور ووٹ دینے کی اپیل کی۔ تجزیہ نگاروں کا کہنا ہے کہ جرمنی میں ہونے والے ان انتخابات میں ہار جیت کا فیصلہ بہت کم ووٹوں سے ہو گا۔ ان انتخابات نےجرمنوں ہی کی نہیں دنیا بھر کی توجہ اپنی جانب مبذول ان انتخابات میں سخت مقابلے کی توقع کی جا رہی ہے کیونکہ پارٹی رہنماؤں نے روایت کے برعکس پولنگ سے ایک دن پہلے تک انتخابی ریلیاں نکالیں جن میں امیدواروں نے ووٹروں سےخطاب کیا اور ان سے ووٹ دینے کی اپیل کی۔
اب تک کے انتخابی رائے عامہ کے ابتدائی جائزے بتاتے ہیں کہ اینجیلا میرکل ملک کی پہلی خاتون چانسلر کی حیثیت سے انتخاب جیتنے میں کامیاب ہو جائیں گی۔ بون میں انتخابی ریلی سے خطاب کے دوران میرکل نے حکومتی نظام میں اصلاحات لانے کا منشور اپنے حامیوں کے سامنے پیش کیا جس کے سر فہرست نکات میں جرمنی میں ترقی کی شرح میں اضافہ اور تیزی سے بڑھتی بیروزگاری کو ختم کرنا شامل تھے۔ فرینکفرٹ اور شمال مغرب میں واقع ملک کے صنعتی علاقے میں خطاب کے دوران گیرہارڈ شروڈر نے ملک کی روایتی فلاحی ریاست کو بچانے کے لیے خود کو ووٹ دیئے جانے کا حق دار قرار دیا۔ انتخابی جائزوں کے مطابق گیرہارڈ شروڈر اور ان کے حلیف گرینز کو واضح عوامی تائید حاصل نہیں۔ چنانچہ قیاس کیا جا رہا ہے کہ ان انتخابات میں اینجیلا اور ان کی حلیف جماعت لبرلز بھاری اکثریت حاصل کرنے میں کامیاب ہو جائیں گے۔ |
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||