جرمنی: انتخابات سے پہلے مہم تیز | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
جرمنی میں چانسلر گیرہارڈ شروئڈر اور ان کی قدامت پسند مخالف اینجلا مرکل اتوار کے انتخابات سے قبل ووٹروں کی حمایت حاصل کرنے کی آخری کوشش کر رہے ہیں۔ تجزیوں کے مطابق اس بار انتخابات کے بارے میں پیشنگوئی کرنا انتہائی مشکل ہے اور اسی لیے امیدوار ماضی کے بر عکس آخری وقت تک مہم جاری رکھے ہوئے ہیں۔ کہا جا رہا ہے کہ مرکل کے جتنے سے امریکہ اور جرمنی کے تعلقات میں بہتری آئے گی۔ مرکل کو جیتنے کے لیے پسندیدہ امیدوار قرار دیا جا رہا ہے لیکن خیال ہے کہ ان کو پارلیمان میں مطلوبہ حمایت حاصل نہیں ہو سکے گی۔ مختلف تجزیوں میں اب تک مرکل کی جماعت کرسچن ڈیموکریٹس کو آگے بتایا جا رہا ہے لیکن وقت کے ساتھ ساتھ شروئڈر کی سوشل ڈیموکریٹسں نے یہ برتری کم کی ہے۔ بی بی سی کے نامہ نگار رے فرلانگ کے مطابق مرکل کی جماعت کی جیت یقینی ہے لیکن ان کی برتری کے بارے میں کچھ نہیں کہا جا سکتا ۔ مرکل چاہتی ہیں کہ ان کی جماعت کو اتنی برتری حاصل ہو جائے کہ انہیں حکومت بنانے کے لیے گیرہارڈ شروئڈر کی جماعت کی حمایت نہ مانگنی پڑے۔ شروئڈر اپنے ووٹروں کو باور کرا رہے ہیں کہ انہیں ایسا امیدوار منتخب کرنا ہوگا جو بیرونی دباؤ کا مقابلہ اور جرمنی کے مفادات کا تحفظ کر سکے۔ شروئڈر کو سن دو ہزار دو میں عراق پر حملے کی مخالفت کی وجہ سے ووٹ ملے تھے۔ مرکل جرمنی میں ’بیروزگاری‘ کا ذکر کر رہی ہیں اور انہوں نے حکومت پر جھوٹ بولنے کا الزام لگایا۔ شروئڈر کا کہنا ہے کہ قدامت پسندوں کی کامیابی سرمایہ داری کی جیت ہوگی اور فلاحی امداد میں کمی کا باعث ہوگی۔ |
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||