| |||||||||||||||||||||||||||||||||||
’فرانس اور جرمنی سے تعلقات بحال‘
امریکہ کے صدر بش نے کہا ہے کہ عراق پر امریکی قیادت میں فوجی کارروائی کی مخالفت کرنے والے ممالک فرانس اور جرمنی کے ساتھ اب دوستانہ تعلقات استوار ہوچکے ہیں۔ بی بی سی سے گفتگو کرتے ہوئے صدر بش نے جرمنی کی تعریف کرتے ہوئے کہا کہ چانسلر شروڈر امریکہ اور جرمنی کے درمیان مضبوط تر تعلقات کی اہمیت کو سمجھتے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ جرمنی کی جانب سے افغانستان فوجیں بھیجنے کے لیے کیا گیا وعدہ بھی قابل ستائش ہے۔ صدر بش نے کہا کہ امریکہ اور یورپ کے درمیان قریبی تعلقات دنیا بھر کے لیے فائدہ مند ہوں گے۔ انہوں نے کہا کہ انہیں پورا اعتماد ہے کہ برطانوی وزیراعظم ٹونی بلیئر اس بات کو یقینی بنائیں گے کہ یورپی دفاعی فوج کے سلسلے میں کوئی بھی پیش رفت ’ناٹو‘ کی اہمیت پر اثر انداز نہ ہو۔ صدر بش نے ایک بار پھر ایک علیحدہ فلسطینی ریاست کے قیام کے لیے اپنے مؤقف کو دہرایا۔ لیکن انہوں نے الزام عائد کیا کہ موجودہ فلسطینی قیادت حماس سمیت ان شدت پسند تنظیموں سے نمٹنے کے لیے خاطر خواہ اقدامات نہیں کررہی جو (بقول ان کے) امن کی مخالفت کررہی ہیں۔ انہوں نے سابق فلسطینی وزیراعظم محمود عباس کی برطرفی کے انداز کو بھی کڑی نکتہ چینی کا نشانہ بنایا۔ انہوں نے کہا کہ ان کا خیال ہے کہ اسرائیلی وزیراعظم ایریل شیرون بھی ایک علیحدہ فلسطینی ریاست کے قیام پر یقین رکھتے ہیں۔ |
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||