جرمنی میں مخلوط حکومت سازی | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
جرمن انتخابات میں کسی بھی جماعت کو حکومت سازی کے لیے درکار اکثریت نہ ہونے کے باعث پیر سے مخلوط حکومت سازی کی کوششیں شروع ہو رہی ہیں۔ اب تک جو نتائج سامنے آئے ہیں ان سے یہ ظاہر ہے کہ پارلیمنٹ معلق رہے گی۔ ان نتائج کے مطابق انگیلا میرکل کی قیادت میں کرسچین ڈیموکریٹک پارٹی پارلیمنٹ میں واحد مقابلتاً اکثریتی پارٹی کے طور پر سامنے آئی ہے لیکن اسے اتنی حمایت حاصل نہیں ہو سکی کے وہ حکومت بنا سکے۔ برسراقتدار چانسلر گیرہارڈ شروڈر کہا ہے کہ ان کی حکومت برقرار رہے گی اور سوشل ڈیموکریٹس پیر سے تمام سیاسی قوتوں سے مذاکرات شروع کریں گے۔ ان کا کہنا ہے کہ ان کی جماعت کسی ایسے اتحاد میں شریک نہیں ہو گی جس میں جو دو بڑی سیاسی جماعتوں پر مشتمل ہو اور اس میں سے ایک قیادت انگیلا میرکل کے پاس ہو۔ سوشل ڈیمو کریٹس کا کہنا ہے کہ یہ نتائج انگیلا میرکل کی ذاتی شکست ہیں اور چانسلر شروڈر کو وسیع تر اتحاد کی قیادت کرنی چاہیے اور بدستور چانسلر رہنا چاہیے۔ کرسچین ڈیموکریٹک پارٹی کی انگیلا میرکل نے کہا ہے کہ انہیں واضح مینڈیٹ حاصل ہوا ہے۔ جرمنی کے اے آر ڈی ٹیلیویژن کے مطابق انگیلا میرکل کی قیادت میں کرسچین ڈیموکریٹس کو 36 فیصد ووٹ حاصل ہوئے ہیں۔ جب کے گیرہارڈ شروڈر کی پارٹی کو 34 فیصد ووٹ حاصل ہوئے ہیں۔ جرمنی میں اتوار کو ہونے والے انتخابات کے لیے برسراقتدار چانسلر گیرہارڈ شروڈر اور کرسچین ڈیموکریٹ لیڈر اینجیلا میرکل کے درمیان سخت مقابلے کی توقع کی جا رہی تھی لیکن یہ اندازہ نہیں تھا کہ اس مقابلہ میں ووٹ اس طرح تقسیم ہو جائیں گے۔ |
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||