BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
آر ایس ایس کیا ہے
آر ایس ایس کیا ہے
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: Monday, 19 September, 2005, 01:58 GMT 06:58 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
جرمنی: مخلوط حکومت سازی
جرمنی کے انتخابات
سوشل ڈیمو کریٹس کا کہنا ہے کہ یہ نتائج انگیلا میرکل کی ذاتی شکست ہیں
جرمنی میں حکومت بنانے کیلیے دونوں بڑی جماعتوں نے چھوٹی جماعتوں سے مذاکرات شروع کر دیے ہیں۔

جرمنی میں انجیلا میرکل کی قیادت میں کرسچین ڈیموکریٹس (سی ڈی یو) نے چانسلر گیرہارڈ شروڈر کی سوشل ڈیموکریٹس سے صرف تین سیٹیں زیادہ حاصل کر کے انتخابات میں کامیابی حاصل کر لی ہے۔ تاہم سرکاری نتائج کے مطابق اسے اتنی حمایت حاصل نہیں ہو سکی کے وہ حکومت بنا سکے۔

کرسچین ڈیموکریٹس (سی ڈی یو) نے 35.2 فیصد ووٹ حاصل کر کے 225 سیٹیں حاصل کی ہیں۔ جبکہ چانسلر گیرہارڈ شروڈر کی سوشل ڈیموکریٹس سے 34.3 فیصد ووٹ حاصل کیے ہیں۔

اس جیت کے بعد بھی انجیلا میرکل کے لیے اپنی پسند کی مخلوط حکومت بنانا مشکل ہے اور شاید انہیں سینٹر۔لیفٹ کی جماعت ایس پی ڈی سے اتحاد کرنا پڑے۔

تاہم چانسلر گیرہارڈ شروڈر اب بھی اصرار کر رہے ہیں کہ ان کے پاس اتنے ووٹ ہیں کہ وہ چانسلر برقرار رہ سکیں۔

ان کا کہنا ہے کہ ان کی حکومت برقرار رہے گی اور سوشل ڈیموکریٹس پیر سے تمام سیاسی قوتوں سے مذاکرات شروع کریں گے۔

ان کا کہنا ہے کہ ان کی جماعت کسی ایسے اتحاد میں شریک نہیں ہو گی جو دو بڑی سیاسی جماعتوں پر مشتمل ہو اور اس میں سے ایک قیادت انجیلا میرکل کے پاس ہو۔

گیرہارڈ شیروڈر

سوشل ڈیمو کریٹس کا کہنا ہے کہ یہ نتائج انجیلا میرکل کی ذاتی شکست ہیں اور چانسلر شروڈر کو وسیع تر اتحاد کی قیادت کرنی چاہیے اور بدستور چانسلر رہنا چاہیے۔

جرمنی میں اتوار کو ہونے والے انتخابات کے لیے برسراقتدار چانسلر گیرہارڈ شروڈر اور کرسچین ڈیموکریٹ لیڈر اینجیلا میرکل کے درمیان سخت مقابلے کی توقع کی جا رہی تھی لیکن یہ اندازہ نہیں تھا کہ اس مقابلہ میں ووٹ اس طرح تقسیم ہو جائیں گے۔

اب جرمنی میں کئی دن بلکہ مہینے سیاسی غیر یقینی رہ سکتی ہے کیونکہ اب دونوں بڑی جماعتیں سیاسی جوڑ توڑ میں مصروف ہو جائیں گی۔

جرمن انتخابات میں کسی بھی جماعت کو حکومت سازی کے لیے درکار اکثریت نہ ہونے کے باعث پیر سے مخلوط حکومت سازی کی کوششیں شروع ہو رہی ہیں۔

اب تک جو نتائج سامنے آئے ہیں ان سے یہ ظاہر ہے کہ انجیلا میرکل کی قیادت میں کرسچین ڈیموکریٹک پارٹی پارلیمنٹ میں واحد مقابلتاً اکثریتی پارٹی کے طور پر سامنے آئی ہے لیکن اسے اتنی حمایت حاصل نہیں ہو سکی کے وہ حکومت بنا سکے۔

اسی بارے میں
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد