جرمنی: دائیں بازو کی کامیابی | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
جرمنی کی دو ریاستوں میں انتخابات میں انتہائی دائیں بازو کی بہتر کارکردگی کی پیشنگوئی کی جا رہی ہے اور ایک محاذ پر اینجلا مرکل کی جماعت کو پریشانی کا سامنا ہے۔ برلن کی ریاست میں کہا جا رہا ہے کہ سوشل ڈیموکریٹس کو مرکل کی کرسچن ڈیموکریٹک جماعت پر برتری حاصل ہے۔ ایک جائزے کے مطابق سوشل ڈیموکریٹک جماعت کے امیدوار کو کرسچن ڈیموکریٹک کے امیدوار سے دس فیصد پوائنٹ آگے ہیں۔ میکلنبرگ مغربی پومرانیا کی ریاست میں انتہائی دائیں بازو کی نیشنل ڈیموکریٹک پارٹی پانچ فیصد ووٹ حاصل کر کے پارلیمان کی رکنیت کا حق حاصل کر سکتی ہے۔ مشرقی جرمنی کی ان دونوں سابقہ کمیونسٹ ریاستوں کی پارلیمان میں پہلے ہی دائیں بازو کے ارکان موجود ہیں۔ این ڈی پی کی حمایت کی وجہ اس کا غیر ملکی تارکین وطن کی آمد کے خلاف سخت مؤقف ہے۔ جرمنی کی پہلی خاتون چانسلر مرکل کا تعلق بھی میکلنبرگ مغربی پومرانیا سے ہے اور وہ چاہیں گی کہ ان کی جماعت یہاں اچھی کارکردگی دکھائے۔ ریاست میں فی الحال ’سرخ سرخ‘ اتحاد کی حکومت ہے جس میں سوشل ڈیموکریٹ(ایس ڈی پی) اور لیفٹ پارٹی شامل ہے۔ سروے کے مطابق ایس پی ڈی اور کرسچن ڈیموکریٹک پارٹی برابر چل رہے ہیں۔ لیکن خیال ہے کہ کامیابی ن پ ڈ کو نصیب ہوگی۔ سابقہ مشرقی جرمنی میں انیس سو نوّے میں الحاق کے بعد صنعت کاری بالکل ختم ہو چکی ہے اور بہت سے لوگ کام کے لیئے مغرب میں جا چکے ہیں۔ جرمنی کے سابقہ چانسلر گیرہارڈ شروڈر نے این پی ڈی کا ہِٹلر کی نازی پارٹی سے موازنہ کرتے ہوئے اس پر پابندی لگانے کی کوشش کی تھی لیکن ملک کی عدالت عظمیٰ نے شروڈر کی اس کوشش کو مسترد کر دیا۔ جرمنی کی ایک اور انتہائی دائیں بازو کی جماعت جرمن پیپلز یونین(ڈی وی یو) کے ارکان برینڈنبرگ کی ریاست میں منتخب ہو چکے ہیں۔ | اسی بارے میں جرمنی: قبل از وقت انتخابات23 May, 2005 | آس پاس سال کے اندر عہدہ چھوڑ دوں گا: بلیئر08 September, 2006 | آس پاس بیلاروس، متنازعہ انتخابات، مظاہرے25 March, 2006 | آس پاس فرانس: سارکوزی کا نیا نظریہ 03 September, 2006 | آس پاس | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||