جی ایٹ اجلاس پر تناؤ کا سایہ | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
یورپ میں متنازعہ امریکی میزائل پروگرام کے بارے میں امریکہ اور روس کے مابین تناؤ کے سائے میں اہم صنعتی ممالک کی تنظیم جی ایٹ کا سربراہ اجلاس بدھ سے جرمنی میں شروع ہو رہا ہے۔ جرمنی کے شہر ہیلگن ڈیم میں ہونے والے اس اجلاس کے ایجنڈے میں مشرقِ وسطٰی اور کوسوو کے مستقبل کے علاوہ گلوبل وارمنگ اور ماحولیاتی تبدیلی جیسے معاملات بھی ہیں۔ یورپی ممالک چاہتے ہیں کہ کیوٹو معاہدے کی جگہ ایک نیا معاہدہ کیا جائے جس میں گرین ہاؤس گیسوں کے اخراج کے حوالے سے کڑی پابندیاں شامل ہوں۔ امریکہ، جس نے کیوٹو معاہدے پر بھی دستخط نہیں کیے ہیں اس قسم کے اقدامات کا مخالف ہے۔ جی ایٹ اجلاس کے موقع پر مظاہروں سے نمٹنے کے لیے جرمن پولیس کو الرٹ کر دیا گیا ہے۔ جرمنی میں بی بی سی کی نمائندہ ٹرسٹانا مُور کا کہنا ہے کہ جی ایٹ مخالف مظاہرین نے کانفرنس سنٹر تک جانے والی سڑکوں پر رکاوٹیں کھڑی کرنے کا منصوبہ بھی بنایا ہے۔ امریکی صدر کی جرمنی آمد کے موقع پر بھی سینکڑوں افراد نے ایئرپورٹ کے نزدیک مظاہر کیا اور صدر بش کے خلاف کے نعرے لگائے۔ ادھر جی ایٹ اجلاس کے آغاز سے قبل روسی اور امریکی صدور کے درمیان الزامات اور تنبیہی پیغامات کا تبادلہ ہوا ہے۔ اجلاس میں شرکت کے لیے جرمنی جاتے ہوئے جمہوریہ چیک کے دارالحکومت پراگ میں قیام کے موقع پر صدر بش نے کہا کہ روس اور چین کے ساتھ امریکہ کے مراسم دوستانہ مگر ’پیچیدہ‘ ہیں۔ صدر بش کا کہنا تھا کہ روس میں عوام کو اختیارات کی منتقلی کے جس عمل کا وعدہ کیا گیا تھا وہ جمہوری پیش رفت میں پیدا ہونے والی رکاوٹوں کی وجہ سے اپنی سمت کھو چکا ہے جبکہ انہوں نے چینی رہنماؤں سے کہا تھا کہ چین کی جانب سے سیاسی اصلاحات کیے بناء اقتصادی منڈیوں تک دنیا کو رسائی فراہم کنرے کا سلسلہ جاری نہیں رہ سکتا۔ انہوں نے کہا کہ روس کو مشرقی یورپ میں اس کے میزائلوں کے دفاعی نظام سے خطرہ محسوس نہیں کرنا چاہیے۔ انہوں نے کہا کہ سرد جنگ ختم ہو چکی ہے اور روس امریکہ کا دشمن نہیں۔ جمہوریہ چیک میں اخباری کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے صدر بُش نے کہا تھا کہ نیا میزائل نظام خالصتاً دفاعی مقاصد کے لیے ہے اور اس کا نشانہ روس نہیں بلکہ ’حقیقی خطرات‘ ہیں۔ امریکہ پولینڈ میں میزائل شکن نظام اور چیک رپبلک میں راڈار اڈہ قائم کرنا چاہتا ہے جبکہ روس کے صدر ولادیمیر پوتن نے کہا ہے کہ اگر امریکہ مشرقی یورپ میں میزائل نصب کیے تو وہ بھی اپنے ہتھیاروں کا رخ یورپ کی جانب موڑ دے گا۔ | اسی بارے میں اصلاحات: صدر بُش کی روس پر تنقید05 June, 2007 | آس پاس پوتن کا بیان، نیٹو کی مذمت04 June, 2007 | آس پاس ’یورپ پھر روسی نشانے پر آ سکتا ہے‘03 June, 2007 | آس پاس امریکی میزائل پر روس کا ردعمل 19 February, 2007 | آس پاس میزائل نظام نصب کریں گے: رائس15 May, 2007 | آس پاس امریکہ اور ایران: ایک سرد جنگ؟02 June, 2007 | آس پاس برما قرارداد، روس اور چین کو نامنظور13 January, 2007 | آس پاس | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||