غیر مقبول عالمی طاقتیں و رہنماء | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
حال ہی میں کیے گئے ایک جائزے کے مطابق رائے عامہ عالمی طاقتوں اور ان کے رہنماؤں کے خلاف ہوتی جا رہی ہے۔ واشنگٹن کے پیو ریسرچ سنٹر کی جانب سے کیے گئے سروے کے مطابق دنیا بھر میں امریکہ کی مخالفت میں تیزی کے ساتھ اضافہ ہوا ہے۔ دنیا کے سینتالیس ممالک میں کیے گئے اس سروے میں یہ بات بھی سامنے آئی ہے کہ چین کے بارے میں رائے عامہ اب پہلے جیسی مثبت نہیں رہی ہے جبکہ روسی صدر ولادیمیر پوتن پر اعتماد میں بھی کمی واقع ہوئی ہے۔ سروے کے مطابق پوتن اگرچہ روسی عوام میں مقبول ہیں لیکن ان کے بارے میں باقی دنیا میں پائے جانے والے تحفظات اب اتنے ہی شدید ہیں جتنے امریکی صدر بش کے بارے میں۔ رائے عامہ میں پائے جانے والے رویوں کے حوالے سے کیے گیے اس سروے میں یہ بات سامنے آئی ہے کہ امریکی قیادت کی بڑھتی ہوئی غیر مقبولیت کی وجہ امریکہ کی خارجہ پالیسی ہے۔ سروے کے مطابق دنیا بھر میں عراق سے امریکی افواج کے انخلاء کی بھرپور خواہش پائی جاتی ہے جبکہ افغانستان میں نیٹو فورسز کے آپریشن کی بھی قابل ذکر مخالفت سامنے آئی ہے۔
امریکہ کی مخالفت مسلم ممالک میں زیادہ دیکھنے میں آئی ہے اور ان میں بعض ایسے ممالک بھی ہیں جو اس کے اتحادی ہیں۔ مثلاً ترکی میں امریکہ کی حمایت صرف 15 فیصد جبکہ پاکستان میں 9 فیصد رہ گئی ہے۔ تاہم سروے میں شامل سینتالیس میں سے پچیس ممالک میں امریکہ کے بارے میں مثبت رائے کا اظہار کیا گیا ہے۔ اسی طرح چین کی پھیلتی ہوئی معیشت اور فوجی قوت کے حوالے سے بھی تحفظات کا اظہار کیا گیا ہے۔ سپین، جرمنی اور فرانس میں چین کے بارے میں پائی جانے والی مثبت رائے میں کمی واقع ہوئی ہے۔ چین کے بارے میں ایشیا میں مجموعی طور پر رائے عامہ اگرچہ بہتر رہی لیکن بھارت میں اس کا منفی تاثر ابھر رہا ہے۔ روس اور پوتن پر مغربی یورپ کے ممالک میں زیادہ تنقید کی جا رہی ہے اور اس کی وجہ توانائی کی فراہمی کے حوالے سے روس پر بہت زیادہ انحصار پر لوگوں میں پائے جانے تحفظات ہیں۔
لیکن روس میں صدر پوتن کی قیادت پر اعتماد کی شرح پیو ریسرچ سنٹر کے سروے کے مطابق 84 فیصد رہی جبکہ صرف 54 فیصد امریکی صدر بش پر ایسے ہی اعتماد کا اظہار کرتے ہیں۔ سروے کے دوران دیکھا گیا ہے کہ ماحولیاتی مسائل پر لوگوں کی پریشانی میں اضافہ ہوتا جا رہے ہے۔ امریکہ کو اس کا (ماحولیاتی مسائل) زیادہ تر ذمہ دار سمجھا جاتا ہے جبکہ چین کو بھی کسی حد تک۔ پیو ریسرچ سنٹر کے مطابق سروے میں پینتالیس ہزار لوگوں کو انٹرویو کیا گیا، جن کا تعلق دنیا کے چھیالیس مختلف ممالک اور فلسطینی اتھارٹی سے تھا۔ |
اسی بارے میں ’عراقیوں پر تشدد غلط بات نہیں‘05 May, 2007 | آس پاس اسرائیل اور ایران ’سب سے بُرے‘06 March, 2007 | آس پاس اسلام اور مغرب: باہمی شک کی فضا24 June, 2006 | آس پاس بھارت میں بش مقبول19 January, 2005 | آس پاس صدر بش دنیا کے لیے خطرہ ہیں: سروے18 January, 2005 | آس پاس | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||