BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
آر ایس ایس کیا ہے
آر ایس ایس کیا ہے
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: Friday, 22 June, 2007, 10:23 GMT 15:23 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
گیری کسپاروو کی سیاست کتنی مؤثر

کسپاروو اپوزیشن جماعتوں کو متحد کرنے کی کوشش میں ہیں
کسپاروو اپوزیشن جماعتوں کو متحد کرنے کی کوشش میں ہیں
گیری کسپاروو ایک اہم شخصیت ہیں۔ انیس سو پچاسی میں شطرنج کے عالمی چیمپیئن بننے والے وہ دنیا کے سب سے کم عمر کھلاڑی تھے۔

اگلے بیس سالوں کے دوران بھی وہ اپنے مخالفین کو شکست دیتے رہے اور شطرنج کی دنیا میں نمبر ون رہے۔ دوسرے الفاظ میں گیری کسپاروو کی طاقت کو نظرانداز نہیں کیا جاسکتا۔

لیکن اب سیاست کی دنیا میں ان کو دوسری قسم کے مخالفین کا سامنا ہے جو اپنا داؤ پیچ کسی ضوابط کے تحت نہیں چلتے۔

میری ملاقات مسٹر کسپاروو سے سینٹ پیٹرسبرگ ہوائی اڈے کے باہر ایک بس اسٹاپ پر ہوئی۔ نیلے رنگ کی بیس بال کیپ اور ڈینِم جیکٹ پہنے ہوئے کسپاروو کسی بھی عام روسی سیاست دان کی طرح نہیں دکھائی دے رہے تھے۔

روسی سیاست دان چمکیلے سوٹ پہنے ہوئے ہوتے ہیں اور کالے شیشے والی لمبی کاروں میں سفر کرتے ہیں۔ آجکل گیری کسپاروو سے منسلک ایک اہم بات یہ ہے کہ ان کے ساتھ ان کے محافظ بھی ہوتے ہیں، کالے چشمے پہنے ہوئے ہٹے کٹے نوجوان۔ روسی سیاست ایک گندا کھیل ہے۔

پوتن روسیوں کے لیے ’مسیحا‘
 یہ ضرور ہے کہ صدر پوتن نے جمہوریت کو نقصان پہنچائی ہے، اظہار خیال کی آزادی پر پابندیاں عائد کی ہے، اور ہاں ان کی خفیہ پولیس ایک بار پھر روسی ریاست کی طاقتور شاخ بن کر ابھر رہی ہے۔ لیکن بیشتر روسیوں کے لیے صدر پوتن ایک مسیحا ہیں جنہوں نے انیس سو نوے کے عشرے کے انتشار پر قابو پایا اور ملک کو ترقی کی راہ پر گامزن کیا۔
مسٹر کسپاروو سینٹ پیٹرسبرگ میں سیاسی ریلی کی قیادت کے لیے جا رہے تھے۔ ان کی کوشش ہے کہ ان بکھری ہوئی جماعتوں کو اکٹھا کرسکیں جو روس کی سیاست میں اپوزیشن کا کردار ادا کرنے کی کوشش کر رہی ہیں۔

سات سال قبل ولادمیر پوتن کے اقتدار میں آنے کے بعد سے روس میں حکومت مخالف جماعتوں کا لگ بھگ صفایا ہوگیا ہے۔ روسی پارلیمان پر بھی حکومت حامی دو جماعتوں ’متحد روس‘ اور ’انصاف پسند روس‘ کا کنٹرول ہے۔ روس کے اہم ذرائع ابلاغ بھی حکومت کے کنٹرول میں ہیں اور مخالفین کو خاموش کردیا گیا ہے۔

گیری کسپاررو کو اس بات پر یقین ہے کہ صدر ولادمیر پوتن کے لیے سیاسی مخالفت اب صرف پارلیمان کے باہر سے ہی آسکتی ہے، اور اس کا مطلب ہے کہ سڑکوں پر اترا جائے۔

سینٹ پیٹرسبرگ میں موسم خوشگوار تھا اور گیری کسپاروو لڑنے کے موڈ میں۔ انہوں نے بتایا کہ ’کوئی بھی پولیس ریاست سڑکوں پر ہونے والے مظاہروں سے فکرمند ہوجاتی ہے۔‘ کسپاروو کے مطابق روسی حکمرانوں کو ’معلوم ہے کہ عوام ان سے ناخوش ہیں۔ (مظاہرین کی تعداد) آج پانچ ہزار ہوسکتی ہے، کل پچاس ہزار۔ حکومت کو احساس ہے کہ وہ غیرمستحکم ہے، وہ بڑھتے ہوئے احتجاج سے آگاہ ہے۔‘

دوپہر کے قریب شہر کے مرکز میں ہجوم جمع ہونا شروع ہوا۔ لیکن یہ کسی ایسے سیاسی مظاہرے کی طرح نہیں تھا جو میں نے اس سے قبل دیکھے تھے۔ اس ریلی میں شرکت کے لیے ہر ایک کو پہلے اپنا شناختی کارڈ پولیس کو دکھانا پڑا، جسم کی تلاشی ہوئی اور سکیورٹی آلات کی نظر سے گزرنا پڑا۔

لگ بھگ ایک گھنٹے کے بعد مظاہرین کوئی ایک ہزار ہونگے لیکن وہاں بڑی تعداد میں موجود پولیس والوں کے مقابلے میں کچھ بھی نہیں۔

ماسکو ریلی میں مظاہرین سے زیادہ پولیس
دو ماہ قبل ماسکو میں ایک ریلی پر مسلح پولیس کے ہزاروں اہلکاروں نے دھاوا بول دیا تھا، کئییوں کی پٹائی کی اور انہیں گھسیٹ کر لے گئے تھے۔ لیکن پوتن حکومت کے لیے یہ واقعہ بدنامی کا باعث بن گیا تھا۔ اب ایسا لگتا ہے کہ حکومت نے اس سے کچھ سیکھ لیا ہے۔

مسٹر کسپاروو کی قیادت میں ریلی شروع ہوئی۔ مظاہرین میں لِبرل خیالات کے حامی، ماحولیات کے دفاع کے لیے لڑنے والی تنظیموں کے کارکن، اور ان کے ساتھ ساتھ نسلی انتہاپسند بھی۔ ہے نہ عجیب بات۔ کچھ دیر بعد یہ ریلی ایک چرچ کے سامنے یوں ہی ختم بھی ہوگئی۔

نئے روسی
وہیں سڑک کی دوسری جانب کچھ تمائشائی بھی اکٹھے ہوگئے، کچھ طنز بھی کرنے لگے۔ ایک شخص نے کہا: ’یہ ناکام لوگ کون ہیں؟ وہ کس چیز کے بارے میں آواز اٹھا رہے ہیں؟‘

ریلی کے بعد میں ایک روسی خاندان سے ملنے گیا۔ چوبیس سالہ جِنیا اور ان کے شوہر وہ لوگ ہیں جنہیں اس ملک میں ’نئے روسی‘ کے نام سے جانا جاتا ہے، یعنی وہ جنہیں صدر پوتن کی حکومت سے کچھ فائدہ پہنچا ہے۔

مقبولیت کی وجہ پیٹرول کی قیمتیں
جِنیا اور اس کے شوہر انگریزی بولتے ہیں، وہ قانون میں پی ایچ ڈی کر رہی ہیں اور ان کے شوہر ٹویوٹا کار پلانٹ میں انجینیئر ہیں۔ وہ لِبرل خیالات اور مغرب کے حامی ہیں۔ لیکن انہیں سمجھ نہیں آتا کہ صدر پوتن کی مخالفت میں کوئی سڑکوں پر کیوں اتر آئے گا۔ جنیا نے کہا: ’میں ان مظاہروں کو نہیں سمجھ سکتی۔‘

’میں نہیں کہتی کہ پوتن سب سے اچھے ہیں، لیکن ان کے بدلے میں کون ہوسکتا ہے؟ ہماری زندگیاں روز بہ روز بہتر ہورہی ہیں، میں امید کرتی ہوں کہ بہتری آتی رہے گی۔ میں چاہتی ہوں کہ صدر پوتن ایک اور مدت کے لیے اقتدار میں رہیں۔‘

اور یہ ایک حقیقت ہے۔ صدر پوتن کو بیرون روس ضرور ناپسند کیا جاتا ہو۔ لیکن ملک کے اندر ان کی مقبولیت اتنی زیادہ ہے کہ جارج بش اور ٹونی بلیئر سوچ بھی نہیں سکتے۔

البتہ یہ ضرور ہے کہ صدر پوتن نے جمہوریت کو نقصان پہنچایا ہے، اظہار خیال کی آزادی پر پابندیاں عائد کی ہیں، اور ہاں ان کی خفیہ پولیس ایک بار پھر روسی ریاست کی طاقتور شاخ بن کر ابھر رہی ہے۔ لیکن بیشتر روسیوں کے لیے صدر پوتن ایک مسیحا ہیں جنہوں نے انیس سو نوے کے عشرے کے انتشار پر قابو پایا اور ملک کو ترقی کی راہ پر گامزن کیا۔

صدر پوتن خوش قسمت ثابت ہوئے ہیں۔ اگر تیل کی قیمتیں آسمان نہیں چھوتیں، تو یہ کہانی کچھ مختلف ہوتی۔ لیکن ان دنوں سوویت ریاست کے اس سابق خفیہ پولیس اہلکار کو شطرنج کے سابق عالمی چیمپیئن کی مخالفت پر کوئی فکر نہیں ہے۔

الیگزنڈر لِٹوینِنکوکے جی بی:
سابق جاسوس کو زہر دے کر مارنے کی کوشش
اینا پولیکووسکایاروسی صحافی کا قتل
چیچنیا میں مظالم کے خلاف لکھنے پر ہوا؟
ایمنسٹی رپورٹ
روس میں بے قابو ہوتا نسلی امتیاز : رپورٹ
بورس یلسنیلسن رخصت ہوئے
’بورس یلسن کی سب سے قریبی مشیر ووڈکا تھی‘
صدر پیوٹنپیوٹن کی پریشانی
’اس وقت روس کا مسئلہ گھٹتی ہوئی آبادی ہے‘
اسی بارے میں
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد