استونیا نے روس کی یادگار ہٹا لی | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
استونیا کے حکام نے احتجاج کے باوجود دارالحکومت تالن سے ریڈ آرمی جنگ سے متعلق ایک یادگار کو ہٹا لیا ہے۔پوری رات جاری احتجاج کے سبب ایک شخص ہلاک ہو گیا ہے۔ یادگار کے مقام پر جھڑپ کے دوران 40 افراد زخمی بھی ہوئے ہیں جبکہ پولیس نے تین سو افراد کو گرفتار بھی کیا ہے۔ احتجاجیوں کی بھیڑ کو منتشر کرنے کے لیے پولیس کو آنسوں گیس کا بھی استعمال کرنا پڑا۔ مظاہرین میں بیشتر کا تعلق روس سے تھا۔ جمعرات کی شام کو اس یادگار کو ہٹانے کے لیے پولیس نے علاقے کو گھر لیا تھا۔ تاہم تقریبا ایک ہزار مظاہرین بھی یادگار کے مقام پر پہنچ گئے۔ اطلاعات کے مطابق اس مقام پر لوٹ اور توڑ پھوڑ کے واقعات بھی پیش آئے۔ روس کہ کہنا ہے کہ یادگار کو وہاں سے نہیں ہٹانا چاہیے جبکہ اسٹونیا میں بیشتر کے خیال میں یہ یادگار سوویت حکمرانی کی یادیں تازہ کرتی ہے۔ استونیا کی حکومت کے ایک ترجمان کے مطابق فی الوقت یہ مجسمہ ایک نامعلوم مقام پر رکھا گیا ہے۔ روس نے اس واقعہ کی سخت مذمت کی ہے۔ روس کی حکومت کا کہنا ہے کہ اس یادگار کو ہٹانا دوسری عالمی جنگ کے شہیدوں کی بے عزتی ہے۔ دراصل یہ یادگار سوویت فوجی کا کانسی کا مجسمہ ہے جسے 1947 میں تعمیر کیا گیا تھا۔ مانا جاتا ہے کہ کئی سوویت کے کئی فوجی یہاں دفن ہیں۔ استونیا کے حکام کا کہنا ہے کہ اس یادگار کو یہاں سے ہٹا کر قبرستان میں منتقل کرنا ضروری تھا کیونکہ یہ یادگار روس اور استونیا دونوں کے باشندوں کے لیے اہم مرکز ہے۔ | اسی بارے میں بوسنیائی مسلمانوں کی یادگار20 September, 2003 | صفحۂ اول ٹریڈ سنٹر کے ہلاک شدگان کی عارضی یادگار11.03.2002 | صفحۂ اول | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||