روس: سینکڑوں کا مظاہرہ، گرفتاریاں | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
ماسکو میں مظاہرے اور گرفتاریوں کے اگلے ہی روز اتوار کو روس کے ایک دوسرے بڑے شہر سینٹ پیٹرزبرگ میں بھی حکومت مخالف مظاہرہ ہوا جس میں سینکڑوں لوگ شریک ہوئے ہیں۔ مظاہرین شہر کے مرکز میں ایک چوک میں اکھٹے ہوئے لیکن اس موقع پر ان کے گرد گھیرا بنانے والے پولیس اہلکااروں کی تعداد بھی ان کے برابر ہی تھی۔ پولیس نے مظاہرین کو سڑکوں پر مارچ نہیں کرنے دیا۔ مرکزی جلسے کے ختم ہونے کے بعد ارد گرد کی سڑکوں پر مظاہرین کے مختلف گروہوں اور پولیس کے درمیان ہاتھا پائی بھی ہوئی جبکہ اس موقع پر کئی حکومت مخالف رہنماؤں کو گرفتار کر لیا گیا۔ سنیچر کو روسی صدر ولادمیر پوتن کے مخالفین کی ایک ریلی سے قبل ماسکو میں اپوزیشن رہنما اور شطرنج کے سابق عالمی چیمپیئن گیری کسپاروف کو گرفتار کرلیا گیا تھا۔ کئی گھنٹوں تک حراست میں رکھنے کے بعد انہیں امن عامہ میں خلل ڈالنے کے کے جرم میں چالیس ڈالر کا جرمانہ کر نے کے بعد رہا کر دیا گیا تھا۔ صدر پوتن کے مخالفین نے سنیچر کے روز دارالحکومت ماسکو کی سڑکوں پر ’جمہوری آزادیوں پر پابندیوں‘ کے خلاف مظاہرہ کیا۔ اپوزیشن تحریکوں کے اتحاد ’دوسرا روس‘ نے سنیچر کے احتجاج کو ’اختلاف کا دن‘ قرار دیا تھا۔ گیری کسپاروف یونائٹیڈ سِول فرنٹ نامی تنظیم کے رہنما جو کہ اپوزیشن پارٹیوں کے اتحاد ’دوسرا روس‘ کی ذیلی تنظیم ہے۔ ان کی تنظیم نے دیگر اپوزیشن جماعتوں کی طرح صدر پوتن پر الزام لگایا ہے کہ وہ روس میں جمہوری آزادیوں پر پابندی لگارہے ہیں۔
خبر رساں ادارے اے پی کے مطابق اس مظاہرے سے نمٹنے کے لیے ماسکو کی سڑکوں پر پولیس کے لگ بھگ نو ہزار اہلکار تعینات کیے تھے۔ ’دوسرا روس‘ اتحاد کے اراکین کا کہنا ہے کہ انہیں وارننگ دی گئی تھی کہ وہ سنیچر کے مظاہرے میں شرکت نہ کریں۔ صدر ولادمیر پوتن کے مخالفین کی یہ ریلیاں ایسے وقت منعقد کی جارہی ہیں جب روسی حکومت نے برطانیہ سے جلاوطن بزنسمین بورس بیریزوسکی کی حوالگی کا مطالبہ کیا ہے۔ بورس بیریزوسکی کو برطانیہ میں قانونی ’سیاسی پناہ‘ حاصل ہے اور انہوں نے حال ہی میں صدر ولادمیر پوتن کی حکومت کا تختہ الٹنے کی کال دی تھی۔ ان کا کہنا ہے کہ صدر پوتن نے آمرانہ حکومت قائم کررکھی ہے جس کا طاقت سے خاتمہ ہوسکتا ہے۔ لیکن بعد میں بیریزوسکی نے کہا ہے کہ انہوں نے ’بنا خون خرابے کی تبدیلی‘ کی بات کی ہے۔ برطانوی حکومت نے کہا ہے کہ وہ بیریزوسکی کے بیان پر غور کررہی ہے اور کسی بھی حکومت کے ’پرتشدد خاتمے‘ کے خلاف ہے۔ |
اسی بارے میں ’قتل میں روس کا ہاتھ ہو سکتا ہے‘10 December, 2006 | آس پاس برما قرارداد، روس اور چین کو نامنظور13 January, 2007 | آس پاس امریکہ’بہت خطرناک‘ ہے: پوتن10 February, 2007 | آس پاس امریکہ بہت خطرناک: پوتن10 February, 2007 | آس پاس پوتن، محمود عباس مذاکرات منگل کو13 February, 2007 | آس پاس ’روسی فوجیوں کا جنسی استحصال‘13 February, 2007 | آس پاس امریکی میزائل پر روس کا ردعمل 19 February, 2007 | آس پاس | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||