BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
آر ایس ایس کیا ہے
آر ایس ایس کیا ہے
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: Sunday, 15 April, 2007, 12:35 GMT 17:35 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
روس: سینکڑوں کا مظاہرہ، گرفتاریاں
صدر پوتن ’جمہوری آزادیوں پر کرب‘ لگا رہے ہیں: اپوزیشن رہنما
ماسکو میں مظاہرے اور گرفتاریوں کے اگلے ہی روز اتوار کو روس کے ایک دوسرے بڑے شہر سینٹ پیٹرزبرگ میں بھی حکومت مخالف مظاہرہ ہوا جس میں سینکڑوں لوگ شریک ہوئے ہیں۔

مظاہرین شہر کے مرکز میں ایک چوک میں اکھٹے ہوئے لیکن اس موقع پر ان کے گرد گھیرا بنانے والے پولیس اہلکااروں کی تعداد بھی ان کے برابر ہی تھی۔ پولیس نے مظاہرین کو سڑکوں پر مارچ نہیں کرنے دیا۔

مرکزی جلسے کے ختم ہونے کے بعد ارد گرد کی سڑکوں پر مظاہرین کے مختلف گروہوں اور پولیس کے درمیان ہاتھا پائی بھی ہوئی جبکہ اس موقع پر کئی حکومت مخالف رہنماؤں کو گرفتار کر لیا گیا۔

سنیچر کو روسی صدر ولادمیر پوتن کے مخالفین کی ایک ریلی سے قبل ماسکو میں اپوزیشن رہنما اور شطرنج کے سابق عالمی چیمپیئن گیری کسپاروف کو گرفتار کرلیا گیا تھا۔

کئی گھنٹوں تک حراست میں رکھنے کے بعد انہیں امن عامہ میں خلل ڈالنے کے کے جرم میں چالیس ڈالر کا جرمانہ کر نے کے بعد رہا کر دیا گیا تھا۔

صدر پوتن کے مخالفین نے سنیچر کے روز دارالحکومت ماسکو کی سڑکوں پر ’جمہوری آزادیوں پر پابندیوں‘ کے خلاف مظاہرہ کیا۔ اپوزیشن تحریکوں کے اتحاد ’دوسرا روس‘ نے سنیچر کے احتجاج کو ’اختلاف کا دن‘ قرار دیا تھا۔

گیری کسپاروف یونائٹیڈ سِول فرنٹ نامی تنظیم کے رہنما جو کہ اپوزیشن پارٹیوں کے اتحاد ’دوسرا روس‘ کی ذیلی تنظیم ہے۔ ان کی تنظیم نے دیگر اپوزیشن جماعتوں کی طرح صدر پوتن پر الزام لگایا ہے کہ وہ روس میں جمہوری آزادیوں پر پابندی لگارہے ہیں۔

گیری کسپاروف کو جرمانے کے بعد چھوڑ دیا گیا

خبر رساں ادارے اے پی کے مطابق اس مظاہرے سے نمٹنے کے لیے ماسکو کی سڑکوں پر پولیس کے لگ بھگ نو ہزار اہلکار تعینات کیے تھے۔ ’دوسرا روس‘ اتحاد کے اراکین کا کہنا ہے کہ انہیں وارننگ دی گئی تھی کہ وہ سنیچر کے مظاہرے میں شرکت نہ کریں۔

صدر ولادمیر پوتن کے مخالفین کی یہ ریلیاں ایسے وقت منعقد کی جارہی ہیں جب روسی حکومت نے برطانیہ سے جلاوطن بزنسمین بورس بیریزوسکی کی حوالگی کا مطالبہ کیا ہے۔

بورس بیریزوسکی کو برطانیہ میں قانونی ’سیاسی پناہ‘ حاصل ہے اور انہوں نے حال ہی میں صدر ولادمیر پوتن کی حکومت کا تختہ الٹنے کی کال دی تھی۔

ان کا کہنا ہے کہ صدر پوتن نے آمرانہ حکومت قائم کررکھی ہے جس کا طاقت سے خاتمہ ہوسکتا ہے۔ لیکن بعد میں بیریزوسکی نے کہا ہے کہ انہوں نے ’بنا خون خرابے کی تبدیلی‘ کی بات کی ہے۔

برطانوی حکومت نے کہا ہے کہ وہ بیریزوسکی کے بیان پر غور کررہی ہے اور کسی بھی حکومت کے ’پرتشدد خاتمے‘ کے خلاف ہے۔

صدر پیوٹنپیوٹن کی پریشانی
’اس وقت روس کا مسئلہ گھٹتی ہوئی آبادی ہے‘
ایمنسٹی رپورٹ
روس میں بے قابو ہوتا نسلی امتیاز : رپورٹ
ماریو سکیرامیلا تابکاری کا زہر
روسی جاسوس کے دوست بھی تابکاری کا شکار
اسی بارے میں
امریکہ بہت خطرناک: پوتن
10 February, 2007 | آس پاس
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد