پوتن، محمود عباس مذاکرات منگل کو | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
روس کے صدر ولادیمر پوتن مشرق وسطی ٰ کے دورے کے پہلے مرحلے میں اردن کے دارالحکومت عمان پہنچ گئے ہیں۔ وہ منگل کو اردن کے شاہ عبداللہ دوئم اور فلسطین کے صدر محمود عباس سے مذاکرات کریں گے۔ اردن حکومت کے ایک ترجمان نے کہا ہے کہ وہ امید کرتے ہیں کہ روسی صدر پوتن کا دورہ مشرق وسطیٰ میں امن کے عمل کو دوبارہ شروع کرنے میں معاون ثابت روسی صدر پوتن قطر سے اردن پہنچے ہیں، اس سے قبل انہوں نے دو دن تک سعودی حکومت سے مذاکرات کیے۔ تجزیہ نگاروں کا کہنا ہے کہ روسی صدر کے دورے سے اس بات کا اشارہ ملتا ہے کہ روس مشرق وسطیٰ میں اپنے تعلقات کو مزید تقویت دینا چاہتا ہے۔ اردن کی حکومت کے ترجمان اعلیٰ نصیر جودیح نے بتایا کہ صدر پوتن کا دورہ انتہائی اہمیت کا حامل اور خوش آئند ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ روس چار فریقی گروپ کا ایک اہم رکن ہے جو مشرق وسطیٰ میں امن کا عمل از سر نو شروع کرنے کا خواہش مند ہے اور خطے میں پائیدار امن چاہتا ہے۔ مشرق وسطیٰ ثالثی گروپ میں یورپی یونین، اقوام متحدہ، امریکہ اور روس شامل ہیں۔ اردن مشرق وسطیٰ میں تعطل کا شکار امن کے عمل کو دوبارہ شروع کرنے کے لیے سرگرم ہے اور پیر کو اردن کے شاہ عبداللہ نے فلسطین کے صدر محمود عباس سے ملاقات کی۔ اسرائیل اور فلسطین تنازعے کے ساتھ ساتھ روسی صدر پوتن اردنی حکام سے توانائی اور معاشی تعلقات کے حوالے سے بھی بات چیت کریں گے۔ دورہ قطر کے دوران صدر پوتن نے امیر شیخ حامد بن خلیفہ الثانی سے بات چیت کی۔ سعودی عرب میں انہوں نے شاہ عبداللہ سے بھی ملاقات کی۔ کسی روسی سربراہ کا سعودی عرب کا یہ پہلا دورہ تھا۔ روس امور پر بی بی سی کے تجزیہ نگار کا کہنا تھا کہ صدر پوتن ایک ایسے وقت میں مشرق وسطیٰ کی مغرب نواز عرب ریاستوں کا دورہ کر رہے ہیں کہ جب ماسکو اور مغرب کے درمیان خلیج گہری ہو رہی ہے۔ گزشتہ ہفتے یورپین سکیورٹی کانفرنس کے دوارن روسی صدر نے امریکی خارجہ پالیسی پر کڑی تنقید کی تھی۔ | اسی بارے میں حماس دہشت گرد تنظیم نہیں: پوتن10 February, 2006 | آس پاس پوتن اسرائیل کے تاریخی دورے پر28 April, 2005 | آس پاس بش پوتن ملاقات سلوواکیہ میں24 February, 2005 | آس پاس امریکہ بہت خطرناک: پوتن10 February, 2007 | آس پاس پوتن کے اقدامات پرامریکی تشویش15 September, 2004 | آس پاس پوتن کا ووٹ بش کے لیے؟18 October, 2004 | آس پاس | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||