BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
آر ایس ایس کیا ہے
آر ایس ایس کیا ہے
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: Tuesday, 13 February, 2007, 07:34 GMT 12:34 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
پوتن، محمود عباس مذاکرات منگل کو
روس کے صدر پوتن قطر کے دورے کے بعد اردن پہنچے ہیں
روس کے صدر ولادیمر پوتن مشرق وسطی ٰ کے دورے کے پہلے مرحلے میں اردن کے دارالحکومت عمان پہنچ گئے ہیں۔

وہ منگل کو اردن کے شاہ عبداللہ دوئم اور فلسطین کے صدر محمود عباس سے مذاکرات کریں گے۔

اردن حکومت کے ایک ترجمان نے کہا ہے کہ وہ امید کرتے ہیں کہ روسی صدر پوتن کا دورہ مشرق وسطیٰ میں امن کے عمل کو دوبارہ شروع کرنے میں معاون ثابت
ہوگا۔

روسی صدر پوتن قطر سے اردن پہنچے ہیں، اس سے قبل انہوں نے دو دن تک سعودی حکومت سے مذاکرات کیے۔

تجزیہ نگاروں کا کہنا ہے کہ روسی صدر کے دورے سے اس بات کا اشارہ ملتا ہے کہ روس مشرق وسطیٰ میں اپنے تعلقات کو مزید تقویت دینا چاہتا ہے۔

اردن کی حکومت کے ترجمان اعلیٰ نصیر جودیح نے بتایا کہ صدر پوتن کا دورہ انتہائی اہمیت کا حامل اور خوش آئند ہے۔

ان کا کہنا تھا کہ روس چار فریقی گروپ کا ایک اہم رکن ہے جو مشرق وسطیٰ میں امن کا عمل از سر نو شروع کرنے کا خواہش مند ہے اور خطے میں پائیدار امن چاہتا ہے۔ مشرق وسطیٰ ثالثی گروپ میں یورپی یونین، اقوام متحدہ، امریکہ اور روس شامل ہیں۔

اردن مشرق وسطیٰ میں تعطل کا شکار امن کے عمل کو دوبارہ شروع کرنے کے لیے سرگرم ہے اور پیر کو اردن کے شاہ عبداللہ نے فلسطین کے صدر محمود عباس سے ملاقات کی۔

اسرائیل اور فلسطین تنازعے کے ساتھ ساتھ روسی صدر پوتن اردنی حکام سے توانائی اور معاشی تعلقات کے حوالے سے بھی بات چیت کریں گے۔

دورہ قطر کے دوران صدر پوتن نے امیر شیخ حامد بن خلیفہ الثانی سے بات چیت کی۔ سعودی عرب میں انہوں نے شاہ عبداللہ سے بھی ملاقات کی۔ کسی روسی سربراہ کا سعودی عرب کا یہ پہلا دورہ تھا۔

روس امور پر بی بی سی کے تجزیہ نگار کا کہنا تھا کہ صدر پوتن ایک ایسے وقت میں مشرق وسطیٰ کی مغرب نواز عرب ریاستوں کا دورہ کر رہے ہیں کہ جب ماسکو اور مغرب کے درمیان خلیج گہری ہو رہی ہے۔ گزشتہ ہفتے یورپین سکیورٹی کانفرنس کے دوارن روسی صدر نے امریکی خارجہ پالیسی پر کڑی تنقید کی تھی۔

اسی بارے میں
امریکہ بہت خطرناک: پوتن
10 February, 2007 | آس پاس
پوتن کا ووٹ بش کے لیے؟
18 October, 2004 | آس پاس
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد