BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: Thursday, 24 February, 2005, 11:48 GMT 16:48 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
بش پوتن ملاقات سلوواکیہ میں
بش اور لورا
صدر بش اور ان کی اہلیہ لورا بدھ کو زبردست حفاظتی انتطامات میں سلوواکیہ پہنچے
امریکی صدر جارج بش سربراہ کانفرنس سے قبل روس کے اپنے ہم منصب کے ساتھ ملاقات کے لیے سلووا کیہ پہنچ گئے ہیں۔ یہ ان کے یورپی ممالک کے ساتھ امریکہ کے تعلقات بہتر کرنے کے دورے کا آخری مرحلہ ہے۔

بدھ کے دن جرمنی کے اپنے دورے کے دوران بش اور چانسلر گیرارڈ شروڈر عراق پر اپنے اختلافات بھولنے پر رضا مند ہوگئے۔

اتنا ہی نہیں انہوں نے ایران سے بھی مشترکہ اپیل کی ہے کہ وہ جوہری ہتھیار نہ بنائے۔ توقع ہے کہ جب مسٹر بش ولادیمیر پوتن سے ملاقات کریں گے تو ایران کے ساتھ ماسکو کے نزدیکی تعلقات کے معاملے پر بھی بات ہوگی۔

توقع ہے کہ صدر بش روس میں جمہوریت کے بارے میں امریکی تشویش پر بھی بات کریں گے جن میں ذرائع ابلاغ پر پابندیاں اور یوکرین کے انتخابات میں مبینہ مداخلت شامل ہے۔

جارج بش نے کہا کہ برسلز میں مذاکرات کے دوران یورپی یونین کے دوسرے رہنماؤں نے روس کے بارے میں ان سےاپنی تشویش کا اظہار کیا تھا۔

اس سلسلے میں ولادیمیر پوتن کا کہنا تھا کہ ’ہمیں جمہوریت کو روسی زندگی کے موجودہ حقائق، ہماری روایات اور تاریخ کے پس منظر میں اپنانا ہوگااور یہ ہم خود کر لیں گے‘۔

بی بی سی کے نامہ نگار اسٹیون روزنبرگ کا کہنا ہے کہ روس کے لیے یہ ملاقات مسائل پر بات چیت کرنا نہیں بلکہ ماحول دیکھنا ہے ۔ دراصل روس اس ملاقات سے اس بات کا اندازہ لگانا چاہتا ہے کہ صدر بش کےعہدے کی دوسری مدت میں امریکہ روس کے ساتھ کس طرح پیش آئے گا۔

صدر بش اور ان کی اہلیہ لورا بدھ کو زبردست حفاظتی انتطامات میں سلوواکیہ پہنچے جہاں سلوواکیہ کے صدر ایوان گیسپرووچ اور وزیراعظم مائیکلاس زیورندا نے ان کا حیر مقدم کیا۔

زیورندا نے سلوواکیہ ٹی وی پر کہا کہ یہ دورہ اس بات کا ثبوت ہے کہ سلوواکیہ کو امریکہ اور روس دونوں کا اعتماد حاصل ہے۔

بش شروڈر
بظاہر اختلافات دور کرنے کی بات

نامہ نگاروں کا کہنا ہے کہ بش کا یہ دورہ دراصل سابق کمیونسٹ ملک کا شکریہ ادا کرنے کا ایک طریقہ ہے جس نے عراق اور افغانستان میں اپنے غیر فوجی دستے بھیج کر امریکہ کی مدد کی تھی۔

بدھ کو بش اور شروڈر نے بظاہر اپنے اختلافات بھول کر ان معاملات پر توجہ دی جن پر دونوں ملکوں کے درمیان اتفاق ہے۔

ایک مشترکہ پریس کانفرنس میں انہوں نے کہا کہ ہم نے اس بات پر اتفاق کیا ہے کہ ان مسائل پر بات نہ کی جائے جہاں اختلافات ہیں۔

مسٹر بش نے یورپ کی اس تشویش کو دور کرنے کی کوشش کی کہ امریکہ ایران کے خلاف فوجی کارروائی کرنے کا منصوبہ بنا رہا ہے۔ انہوں نے کہا کہ ایران عراق نہیں ہے۔

لیکن صدر بش نے اس بات کو دہرایا کہ تمام راستے کھلے ہیں جو جرمنی کے اس موقف سے میل نہیں کھاتا کہ ایران کے حلاف طاقت کے استعمال کو خارج از امکان قرار دیا جائے۔

نامہ نگاروں کا کہنا ہے کہ دونوں رہنماؤں نے ایک متحدہ محاذ دکھانے کی کوشش تو کی لیکن ان کے درمیان اختلافات بھی واضح تھے۔

اسی بارے میں
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد