’ایران پر حملہ مضحکہ خیز خیال ہے‘ | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
امریکہ کے صدر بش اپنی یورپ یاترا کے ایک اہم مرحلے میں جرمنی پہنچے ہیں جہاں وہ چانسلر گرہارڈ شروڈر سے ملاقات کریں گے۔ توقع ہے کہ مسٹر شروڈر ،جو عراق کی جنگ کے سخت ترین مخالف تھے، صدر بش پر افغانستان میں امریکہ کی سربراہی میں امن کی کوششوں پر زور دیں گے۔ صدر بش کے اس حالیہ دورہِ یورپ کا بڑا مقصد عراق کی جنگ کے پس منظر میں یورپ سے امریکہ کے تعلقات بحال کرنے کی کوشش ہے اور منگل کے روز انہوں نے برسلز میں ہونے والے ایک اجلاس میں یورپی ممالک کی عراق کو مستحکم کرنے کے سلسلے میں حمایت حاصل کی تھی۔ تاہم عملی طور پر کئی ممالک کی حمایت بہت ہی محدود تھی۔ مثال کے طور پر فرانس عراق کی سیکورٹی فورسز کی تربیت کے لئے ایک آفیسر وہاں بھیجے گا۔ تاہم اس حمایت کی علامتی حیثیت کو خاصی اہمیت دی جا رہی ہے۔ برسلز میں اس اجلاس کے بعد صدر بش نے ایک اخباری کانفرنس میں کہا تھا کہ یہ خیال بالکل مضحکہ خیز ہے کہ امریکہ ایران پر حملے کی تیاری کررہا ہے۔ صدر بش نے کہا کہ ایران سے برطانیہ، جرمنی اور فرانس مذاکرات کررہے ہیں جن کا ایک ہی اجتماعی مقصد ہے کہ ایران جوہری ہتھیار نہ بنائے۔ نیٹو کے سربراہ سے اس موقع پر کہا تھا کہ ’ہم وقتاً فوقتاً اختلاف رائے رکھ سکتے ہیں لیکن ایسے بہت سے معاملات ہیں جن پر ہم مشترکہ طور پر اتفاق کرسکتے ہیں۔‘ جرمنی کے چانسلر شروڈر صدر بش کا استقبال تاریخی شہر مینز میں کریں گے جہاں صدر بش کے والد جارج بش کو 1989 میں دیوار برلن کے گرنے کے بعد بلایا گیا تھا۔ توقع ہے کہ دونوں رہنما اختلافات کو دور رکھ کر باہمی تعاون اور تعلقات میں بہتری پر زور دیں گے۔ |
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||