پوتن کا ووٹ بش کے لیے؟ | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
روس کے صدر ولادیمیر پوتن نے کہا ہے کہ عراق میں امریکی فوجوں پر ان کے بقول عالمی دہشت گردوں کے حملوں کا مقصد یہ ہے کہ امریکہ کے صدر جارج بش کو زیادہ سے زیادہ نقصان پہنچایا جاۓ۔ پوتن نے کہا کہ اگر یہ لوگ کامیاب ہوگۓ تو امریکہ اور تمام عالمی اتحاد پر اپنی فتح کا جشن منائیں گے۔ صدر پوتن نے کہا کہ روس امریکی عوام کے انتخاب کا احترام کرے گا۔ تاہم ان کے اس تبصرے کا یہی مطلب لیا جاۓ گا کہ پوتن صدر بش کی فتح کو ترجیح دیتے ہیں۔ بش اور پوتن دونوں ہی نام نہاد دہشت گردی کے خلاف لڑی جانے والی جنگ کے بارے میں ایک جیسی دوٹوک آرا رکھتے ہیں۔ جب سے روس عالمی اتحاد میں شامل ہوا ہے بش انتظامیہ نے بھی چیچنیا میں روس کے طرز عمل پر محتاط طور پر تنقید کی ہے۔ تاہم صدر پوتن شائد اس بات پر ناراض ہیں کہ صدر بش کے حریف اور ڈیموکریٹ پارٹی کے امیدوار سنیٹر جان کیری کے قریبی بااثر لوگ روس پر تنقید کررہے ہیں۔ گزشتہ ماہ امریکہ اور یورپ کے ایک سو سے زیادہ خارجہ پالیسی کے ماہرین نے ایک خط پر دستخط کیے تھے جس میں صدر پوتن پر الزام لگایا گیا تھا کہ وہ روس میں جمہوریت کو نقصان پہنچا رہے ہیں اور اسے دوبارہ مطلق العنانیت کی طرف دھکیل رہے ہیں۔ یہ خط مغربی رہنماؤں کو بھیجا گیا تھا۔ سنیٹر جوزف بڈن ، جو کہ ڈیموکریٹک پارٹی کے بڑے ماہر ہیں ، نے بھی اس خط پر دستخط کیے تھے۔ اس مہینہ کے شروع میں رچرڈ ہالبروک ، جن کے بارے میں کہا جاتا ہے کہ اگر جان کیری جیت گۓ تو وہ امریکہ کے وزیر خارجہ ہوں گے، نے اخبار فنانشل ٹائمز میں لکھا تھا کہ صدر بش نے روسی صدر پوتن کی قیادت پر ہونے والے پریشان کن رجحانات پر نرم ردعمل کا مظاہرہ کیا جس سے روسی صدر کی بدترین خصلتیں اور زیادہ مستحکم ہوگئیں۔ یہ کہنا مشکل ہے کہ اگر جان کیری صدر بن گۓ تو ان کی خارجہ پالیسی ماسکو کے بارے میں کتنی مختلف ہوگی تاہم صدر پوتن نے تو واضح کردیا ہے کہ وہ یہ جاننے کے لیے پُرجوش نہیں۔ |
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||