میزائل: رائس، گیٹس ماسکو میں | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
امریکی وزیرِ خارجہ کونڈالیزا رائس اور وزیرِ دفاع رابرٹ گیٹس یورپ میں امریکی میزائل دفاعی نظام کی تنصیب کے حوالے سے اعلٰی روسی حکام سے بات چیت کے لیے ماسکو پہنچ گئے ہیں۔ یہ دونوں وزراء اپنے دورۂ ماسکو میں جمعہ کو اپنے اپنے ہم منصب روسی وزراء سے ملاقات کریں گے جبکہ کونڈالیزا رائس اور روسی صدر ولادیمیر پوتن کی ملاقات بھی متوقع ہے۔ روس کا کہنا ہے کہ امریکہ کی جانب سے جمہوریہ چیک میں ریڈار اڈے اور پولینڈ میں انٹرسپٹرز کا قیام خود اس کی سلامتی کے لیے خطرہ ہے جبکہ امریکہ کا کہنا ہے کہ ان تنصیبات کا مقصد ایران اور شمالی کوریا جیسے ممالک کی سرگرمیوں پر نظر رکھنا ہے۔ اس حوالے سے روس نے امریکہ کو پیشکش کی ہے کہ وہ آذربائیجان میں نصب خطرے کی قبل از وقت نشاندہی کرنے والے روسی ریڈار نظام سے استفادہ کر سکتا ہے۔ تاہم روس کے سفر کے دوران طیارے میں صحافیوں سے بات کرتے ہوئے کونڈالیزا رائس نے کہا کہ’ ہم اس معاملے میں بہت واضح موقف رکھتے ہیں کہ جمہوریہ چیک اور پولینڈ میں تنصیبات ہماری ضرورت ہیں‘۔ ماسکو میں بی بی سی کے نمائندے رچرڈ گالپن کا کہنا ہے کہ امریکی وزرائے خارجہ و دفاع کی روسی ہم منصبوں سے ان ملاقاتوں میں امریکی میزائل دفاعی نظام کے حوالے سے کسی بڑی پیش رفت کا کوئی امکان نہیں۔تاہم گالپن کا یہ بھی کہنا ہے کہ کونڈالیزا رائس اور رابرٹ گیٹس کا ماسکو آنا ہی اس بات کا مظہر ہے کہ یہ معاملہ کس قدر سنجیدہ رخ اختیار کر چکا ہے۔ امریکی و روسی وزراء کی ملاقات میں میزائل نظام کے علاوہ ایران پر سخت پابندیوں کے حوالے سے روسی موقف اور کوسوو کے معاملے پر بھی بات ہوگی۔ | اسی بارے میں روسی فضائیہ، حدود سے باہر پروازیں17 August, 2007 | آس پاس ایران پر روس اور امریکہ کا اتفاق02 July, 2007 | آس پاس پوتن، بش غیر سرکاری ملاقات02 July, 2007 | آس پاس اصلاحات: بُش کی روس پر تنقید05 June, 2007 | آس پاس میزائل نظام نصب کریں گے: رائس15 May, 2007 | آس پاس پوتن کا بیان، نیٹو کی مذمت04 June, 2007 | آس پاس | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||