روسی فضائیہ، حدود سے باہر پروازیں | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
روس کے صدر ولادیمیر پوتن نے کہا ہے کہ ان کے ملک کی فضائیہ روسی فضائی حدود کے باہر بھی طویل دفاعی پروازیں مستقل بنیادوں پر شروع کر رہی ہے۔ اس سے پہلے ایسی پروازیں سویت یونین کے زمانے میں کی جاتی تھیں۔ روس کے صدر نے کہا کہ پندرہ سال کے وقفے کے بعد ان پروازوں کو دوسری فوجی طاقتوں سے محسوس کیے جانے والے خطرے کے رد عمل میں شروع کیا جا رہا ہے۔ انہوں نے کہا کہ جمعہ کی صبح چودہ بمبار طیارے اپنے مشن پر روانے کیے گئے۔
روس نے انیس سوبانوے میں یکطرفہ طور پر اپنی حدود سے باہر دفاعی پروازوں کا سلسلہ بند کر دیا تھا۔ صدر پوتن نے کہا ہے کہ ’بدقسمتی سے ان کی مثال پر سب نے عمل نہیں کیا‘ جو بظاہر امریکہ کی طرف اشارہ تھا۔ امریکہ میں محکمۂ خارجہ کے ترجمان نے اس واقعے کو زیادہ سنگین نہیں سمجھا اور کہا کہ امریکہ کے روس کے ساتھ تعلقات اس کے سویت یونین کے ساتھ تعلقات سے مختلف ہیں۔ انہوں نے کہا کہ روس اگر پرانے طیاروں کو دوبارہ اڑانا چاہتا ہے تو یہ ان کا فیصلہ ہے۔ روس کی طرف سے پندرہ برس قبل بمبار طیاروں کی پروازیں بند کرنے کی ایک وجہ ایندھن کی قلت تھی۔ ماسکو میں بی بی سی کے نامہ نگار نے کہا کہ اب روس تیل کی آمدنی سے مالا مال ہے اور وہ اپنی عسکری طاقت منوانا چاہتا ہے۔ اس سے ایک ہفتہ قبل روسی بمبار طیارے پرواز کرتے ہوئے امریکی جزیرے گوام سے چند سو کلومیٹر کے فاصلے تک پہنچ گئے تھے۔ چند روز قبل ماسکو سے اعلان کیا گیا تھا کہ اس کے طیاروں نے قطب شمالی کے اوپر مشقیں شروع کر دی ہیں۔ گزشتہ ماہ دو روسی طیارے ناروے کے ساحل کے قریب اپنے راستے سے بھٹک کر سکاٹ لینڈ کی طرف بڑھ گئے جس کے نتیجے میں برطانوی فضائیہ کے دو طیاروں کو ان کی طرف روانہ کیا گیا۔ حال ہی میں روسی طیاروں نے الاسکا میں امریکی فضائی حدود کے قریب بھی پرواز کی ہے۔ | اسی بارے میں میزائل نظام نصب کریں گے: رائس15 May, 2007 | آس پاس روس: معاہدے سے علیحدگی14 July, 2007 | آس پاس سنگین نتائج بھگتنا ہوں گے: روس 17 July, 2007 | آس پاس اصلاحات: بُش کی روس پر تنقید05 June, 2007 | آس پاس | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||