روس: معاہدے سے علیحدگی | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
روس نے سرد جنگ کے خاتمے پر طے پانے والے ایک سکیورٹی معاہدے میں اپنی شراکت ’معطل‘ کر دی ہے۔ اس سلسلے میں روسی صدر ولاد میر پوٹن نے ایک دستاویز پر دستخط کیے جس میں روس کی سکیورٹی پر اثر انداز ہونے والے ’غیر معمولی حالات‘ کو اس فیصلے کی وجہ قرار دیا گیا ہے۔ روسی صدر کا یہ فیصلہ معاہدے میں شریک فریقین کو اس کا علم ہونے کے 150 دنوں بعد نافذ ہوگا۔ روس، چیک ری پبلک اور پولینڈ میں امریکہ کے میزائلوں کے دفاعی نظام کے نصب کرنے کے فیصلے پر برہم ہے۔ انیس سو نوے میں روایتی افواج کی یورپ میں تعیناتی پر طے پانے والےمعاہدے کے تحت بحر اٹلانٹک اور یورل پہاڑوں کے سلسلے کے درمیان خطے میں بھاری ہتھیاروں کی تعداد محدود کی گئی تھی۔ اس معاہدے کو سی ایف ای یعنی کنوینشنل فورسز ان یورپ ٹریٹی کا نام دیا گیا ہے۔ روس کے اس فیصلے کا مقصد معاہدے سے مکمل دستبرداری نہیں ہے البتہ روس اب اپنی تنصیبات کے معائنے کی اجازت دے گا نہ ہی کسی قسم کی معلومات فراہم کرے گا۔ تاہم روس کے ڈپٹی وزیرِ خارجہ سرگئی کسیا ک نے کہا کہ ماسکو نے بات چیت کےدروازے بند نہیں کیے۔ انہوں نے کہا: ’ ہم نے اس معاہدے کے اراکین کو اس صورتِ حال سے نمٹنے کے لیے اپنی تجاویز پیش کردی ہیں اور مثبت ردِّعمل کا انتظار کررہے ہیں۔‘ اس کے برعکس نیٹو کے ترجمان نے کہا ہے کہ دیگر اراکین نے روس کے اس فیصلے کی مذمت کی ہے۔ نیٹو کے ترجمان جیمز اپاتھورائی نے کہا: ’ اتحادی اس معاہدے کو یورپی سلامتی کے لیے سنگِ بنیاد سمجھتے ہیں۔‘ اس سلسلے میں بی بی سی کے نمائندے جوناتھن مارکس نے روس کی طرف سے معاہدے کی معطلی کے فیصلے کو مایوس کن قدم قرار دیا ہے۔ اس صورتِ حال سے امریکہ اور روس کے درمیان تعلقات مزید بگڑ گئے ہیں۔ ان کے مطابق اسی سال روسی اور امریکی صدور کے درمیان ملاقات بش کے آبائی مکان میں ہوئی ۔اس ملاقات میں بھی دونوں لیڈروں کے تعلقات میں بہتری نہ آسکی۔ جوناتھن کے مطابق روس کا حالیہ فیصلہ روس کی خارجہ پالیسی کی واضح عکاسی کرتا ہے۔
انیس سو نوے میں سی ایف ای کا یہ معاہدہ ہتھیاروں کے کنٹرول کے لیے اہم ترین معاہدہ تھا۔ یہ معاہدہ خاص جنگی ہتھیاروں یعنی ٹینک، جنگی جہازوں اور بھاری توپوں کی تعداد میں کمی کے لیے ہے۔ اس معاہدے کا اطلاق بحر اٹلانٹک اور یورل پہاڑوں کے سلسلے کے درمیان خطے میں موجود ان ممالک پر ہوتا ہے جو وارسا معاہدے اور نیٹو کے ارکان ہیں۔ انیس سو ننانوے میں کمیونسٹ دور کے خاتمے پر نئے روسی مفادات کے لیے اس معاہدے کی تجدید کی گئی تھی لیکن اس تجدیدی معاہدے کو نیٹو کے ممبران نے کبھی تسلیم نہیں کیا جو چاہتے ہیں کہ روس اپنی افواج جارجیا میں ابخازیہ اور مولڈووا میں ڈینیسٹر سے نکال لے جو تقسیم شدہ روس کے روسی زبان بولنے والے باشندوں کی سر زمین ہے۔ اس سلسلے میں نیٹو کے ترجمان نے مزید کہا: ’ سی ایف ای معاہدہ اور میزائلوں کا دفاعی نظام روس اور مغرب کے درمیان اختلافات کی بنیادی وجوہات ہیں۔ تاہم میرے خیال میں پہلے اور اب بھی اس بات کے امکانات موجود ہیں کہ نیٹو ارکان سی ایف ای معاہدے کی تصدیق کی طرف پیش قدمی کریں۔‘ | اسی بارے میں روس کا حماس کی قیادت سے وعدہ28 February, 2007 | صفحۂ اول روسی میزائل ایران کے حوالے 23 January, 2007 | صفحۂ اول چین روس مشترکہ فوجی مشقیں02 August, 2005 | صفحۂ اول روسیوں کا امریکی سینٹ پر غصہ16 May, 2005 | صفحۂ اول بیلاروس میں ’امریکی مداخلت‘22 April, 2005 | صفحۂ اول ماسکو میں کار بم دھماکہ، 10ہلاک31 August, 2004 | صفحۂ اول | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||