بیلاروس میں ’امریکی مداخلت‘ | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
امریکی وزیر خارجہ کونڈولیزا رائیس نے لِتھوینیا میں نیٹو کے اجلاس میں شرکت کے دوران بیلاروس کے منحرفین سے ملاقات کی ہے۔ رائیس نے منحرفین سے کہا کہ ’بیلاروس میں جمہوریت کے لیے نقشہ راہ بنایا جائے گا‘۔ انہوں نے کہا کہ بیلاروس وسطی یورپ میں ’آخری حقیقی آمریت‘ ہے۔ انہوں نے عوام کے احتجاج کے حق کا دفاع کیا اور اظہار رائے کی آزادی اور منصفانہ انتخابات کا مطالبہ کیا۔ دریں اثناء بیلاروس اور روس نے رائیس پر ملک کے اندرونی معاملات میں مداخلت کا الزام لگایا ہے۔ امریکی وزیر خارجہ نے بیلاروس کے سات منحرفین سے لِتھوینیا کے شہر وِلنیس میں ملاقات کی جہاں وہ نیٹو ممالک کے وزراء خارجہ کے اجلاس میں شرکت کے لیے گئی ہیں۔ بیلاروس کی پارلیمان کے ایک سینیئر رکن نے اس ملاقات پر کہا کہ یہ سردجنگ کے دور میں واپس جانے کے مترادف ہے۔ انہوں نے کہا یہ بیلاروس کی منتخب حکومت کا تختہ الٹنے کی دعوت ہے۔ رائیس نے کہا کہ یہ بہت مشکل لگتا ہے لیکن بیلاروس میں جمہوریت آئے گی۔ ایک اخباری کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے انہوں نے کہا بیلاروس کےلوگوں کو خود فیصلہ کرنا ہوگا کہ وہ آگے بڑھنے کے لیے کیا طریقہ استعمال کرتے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ سنہ دو ہزار چھ میں ہونے والےانتخابات بیلاروس کے لوگوں کے لیے اپنی رائے کے اظہار کے لیے ایک اچھا موقع ہوگا۔ بی بی سی کے تجزیہ نگار سٹیون ایک کا کہنا ہے کہ بیلاروس میں حزب اختلاف دس سال سے حکومت کرنے والے ایلگزینڈر لوکاشینکو کے خلاف ایک مشترکہ محاذ کھڑا کرنے میں ناکام رہی ہے۔ انہوں نے کہا کہ روس کے لیے دفاعی نقطۂ نظر سے بیلاروس اہم ساتھی ہے۔ اس کے علاوہ روس سے دوسرے ممالک کو گیس کی فراہمی کے لیے بھی بیلاروس اس کے لیے اہم ہے۔ |
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||