بُش پر حملے کا منصوبہ: حکام | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
کولمبیا میں حکام کا کہنا ملک کی سب سے بڑی گوریلا تنظیم نے امریکہ کے صدر جارج بش کے حالیہ دورے کے دوران ان کے قتل کا منصوبہ بنایا تھا۔ کولمبیا کے وزیر دفاع نے بتایا کہ گزشتہ پیر کو صدر بُش کو نشانہ بنانے کا منصوبہ بنایا گیا تھا۔ انہوں نے کہا کہ مخبروں اور دیگر خفیہ ذرائع سے اس مبینہ منصوبے کے بارے میں معلوم ہوا۔ کولمبیا میں ’کولمبیا کی مسلح انقلابی افواج‘ نامی تنظیم (ایف اے آر سی) ہمیشہ سے امریکہ پر ملک کے معاملات میں مداخلت کا الزام لگاتی رہی ہے۔ وزیر دفاع نے کہا کہ ایف اے آر سی کی سات رکنی سربراہی کمیٹی نے اپنے گوریلا یونٹ کو صدر بُش پر حملہ کرنے کے لیے کہا تھا۔ کولمبیا میں حکام کا کہنا تھا کہ صدر بش کے دورے کے دوران پندرہ ہزار افراد سکیورٹی پر مامور کیے گئے تھے۔ بی بی سی کے نامہ نگار کے مطابق ایف اے آر سی کے پاس صدر بُش پر حملے کرنے کی کئی وجوہات ہیں جن میں سب سے بڑی وجہ امریکہ کی طرف سے سالانہ چھ سو ملین ڈالر کی امداد ہے جو زیادہ تر فوجی سازو سامان کی صورت میں دی جاتی ہے۔ اس کے علاوہ ایک اور وجہ ملک بدری کی پالیسی ہے جس کے تحت ایف آر اے سی کے دو اعلیٰ کمانڈر مقدمات کا سامنا کرنے کے لیے امریکہ بھیجے جا چکے ہیں۔ |
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||