عراق: سی آئی اے کی سرزنش | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
امریکی سینیٹ نےاپنی رپورٹ میں عراقی ہتھیاروں کے بارے میں سی آئی اے کی کارکردگی پرتنقید کی ہے ۔ سینٹ کی اینٹلینجنس کمیٹی نے پانچ سو صفحات پر مشتمل اپنی رپورٹ میں سی آئی اے کو سخت تنقید کا نشانہ بنایا ہے اور کہا کہ عراق کے بارے میں اس کی اطلاعات انتہائی ناقص تھی۔ امریکی سینیٹ کی انٹیلیجنس کمیٹی نے اس رپورٹ پر سال بھر سے زیادہ عرصہ لگایا ہے۔ اطلاعات کے مطابق کمیٹی کو اس بات کے کوئی ثبوت نہیں ملے کہ وائٹ ہاؤس نے سی آئی اے پر کوئی دباؤ ڈالا ہو کہ وہ عراق کے ہتھیاروں کے بارے میں کیا کہے۔ تاہم واشنگٹن میں بی بی سی کے نامہ نگار جسٹن ویب کہتے ہیں کہ امریکی حکومت کی مداخلت یا انٹیلیجنس رپورٹوں کے غلط استعمال کے سوال پر ابھی مزید بحث ہوگی۔ اس سوال پر انٹیلیجنس کمیونٹی کی اس سال ایک علیحدہ تفتیش ہوگی۔ اس اتوار کو اپنے عہدے سے دستبردار ہونے والے سی آئی اے کے ڈائریکٹر جارج ٹینیٹ نے بھی اس الزام کی تردید کی ہے کہ حکومت نے سی آئی اے پر کوئی دباؤ ڈالا تھا۔ جمعرات کو ایک الودائیہ فنکشن میں تقریر کرتے ہوئے جارج ٹینیٹ نے کہا تھا کہ امریکی عوام ہی سی آئی اے کی کارکردگی پر صحیح فیصلہ کریں گیں اور عوام اچھی طرح جانتے ہیں کہ ادارے کو کِن مشکلات کا سامنا ہوتا ہے۔ |
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||