ایران پر روس اور امریکہ کا اتفاق | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
امریکی صدر جارج بش اور امریکہ کے دورے پر آئے ہوئے ان کے روسی ہم منصب ولادیمیر پوتن نے کہا ہے کہ ایران کے جوہری پروگرام سے متعلقہ بحران پر وہ اکٹھے ہو کر کام کریں گے۔ اپنے آبائی گھر میں صدر پوتن ملاقات کے بعد صدر بش نے کہا کہ انہوں نے اور صدر پوتن نے اس بات پر اتفاق کیا ہے کہ اس بات کی ضرورت ہے کہ (ایران کو) ایک مشترکہ پیغام دیا جائے۔ تاہم دونوں رہنما یورپ میں امریکہ کے میزائلوں کے دفاعی نظام کی تنصیب پر اختلافات ختم نہیں کر سکے۔ روسی صدر ویلادیمر پوتن پہلے ایسے سربراہِ مملکت بن گئے ہیں جن کی میزبانی امریکی صدر جارج بش نے موسمِ گرما کے لیے مخصوص اپنے خاندانی گھر میں کی ہے۔ اس غیر رسمی دورے میں صدر بش کے والد اور سابق امریکی صدر جارج سینئر بش نے کشتی چلا کر روسی صدر کو سیر کرائی جس کے بعد انہیں رات کو پرتکلف کھانا کھلایا گیا۔ تاہم بی بی سی کے نامہ نگار کا کہنا ہے کہ امریکی میزبانوں کی اس ملنساری کے باوجود روس اور امریکہ کے تعلقات میں زیادہ گرمجوشی نہیں ہے اور ان سے زیادہ امیدیں وابستہ نہیں ہیں۔ دنوں ممالک کے درمیان امریکہ کی جانب سے میزائلوں کے دفاعی نظام کی تنصیب کے منصوبے کی وجہ سے کشیدگی پائی جاتی ہے۔ روس سے امریکہ روانہ ہونے سے قبل، صدر پوتن نے کہا تھا کہ وہ صدر بش کے ساتھ دوستانہ بات چیت کے منتظر ہیں۔ روسی خبر رساں ادارے انٹرفیکس کے مطابق صدر پوتن نے کہا کہ انہیں امید ہے کہ صدر بش کے ساتھ ’جن کے ساتھ میرے تعلقات اچھے بلکہ میں کہوں گا کہ دوستانہ ہیں، بات چیت اسی جذبے کے ساتھ ہو گی۔‘ نامہ نگاروں کا کہنا ہے کہ امریکہ کے لیے یہ ملاقات دونوں ملکوں کے درمیان بھروسہ بحال کرنے سے متعلق ہے جو پہلے ہی شک و شبہے کا شکار ہے۔ صدر پوتن امریکہ میں اتوار کے روز پہنچے تھے جہاں وہ دو دن بش خاندانی گھر میں رہیں گے جسے صدر بش کے پردادا نے تعمیر کرایا تھا۔ روسی صدر اپنے امریکی ہم منصب ان کی اہلیہ لارا بش اور جارج بش سینئر کی اہلیہ باربرا بش کے لیے پھول لائے۔ملاقات میں امریکی وزیرِ خارجہ کونڈولیزا رائس بھی شریک ہوئیں۔ امریکہ اور روس کے درمیان تعلقات اس وقت سے کشیدہ ہیں جب سے امریکہ نے چیک جمہوریہ میں ریڈار اور پولینڈ میں دس میزائل شکن تنصیبات لگانے کا ارادہ ظاہر کیا ہے۔ نیٹو اور امریکہ کا کہنا ہے کہ ان تنصیبات کا رخ روس کی طرف نہیں ہوگا بلکہ شمالی کوریا اور ایران کی جانب ہوگا۔ لیکن روسی صدر نے خبردار کیا ہے کہ اگر امریکہ نے اپنے منصوبے کو عملی جامہ پہنایا تو وہ بھی اپنے میزائلوں کا رخ یورپ کی طرف کر دیں گے۔ | اسی بارے میں اصلاحات: بُش کی روس پر تنقید05 June, 2007 | آس پاس پوتن کا بیان، نیٹو کی مذمت04 June, 2007 | آس پاس ’یورپ پھر روسی نشانے پر آ سکتا ہے‘03 June, 2007 | آس پاس امریکی میزائل پر روس کا ردعمل 19 February, 2007 | آس پاس میزائل نظام نصب کریں گے: رائس15 May, 2007 | آس پاس امریکہ اور ایران: ایک سرد جنگ؟02 June, 2007 | آس پاس برما قرارداد، روس اور چین کو نامنظور13 January, 2007 | آس پاس | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||