’ایران پر فوجی حملہ ٹھیک نہیں‘ | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
سعودی عرب کے وزیر خارجہ شہزادہ سعود الفیصل نے اس خواہش کا اظہار کیا ہے کہ ایران کے جوہری پروگرام کی وجہ سے اس کے خلاف فوجی کارروائی کی دھمکیوں پر عمل درآمد نہیں کیا جائے گا۔ شہزادہ سعود الفیصل نے بی بی سی کے ساتھ ایک انٹرویو میں کہا کہ ایران پر حملہ سے صرف خلیج کا خطہ ہی نہیں بلکہ پوری عالمی برادری کو نقصان ہوگا۔
شہزادہ فیصل نے انٹرویو میں کہا کہ ایران کسی بھی فوجی کارروائی کا جواب دے گا۔ انہوں نے کہا کہ خلیج سے ساری دنیا کے اقتصادی مفادات وابستہ ہیں، متواتر ہلچل ہے۔ اگر یہاں فوجی اقدام کیا جاتا ہے تو اس کا وہی نتیجہ نکلے گا جو چینی کے برتنوں کی دکان میں سانڈ کے گھس جانے سے ہوتا ہے۔ عراق کے بارے میں بات کرتے ہوئے سعودی وزیر خارجہ نے کہا کہ عالمی برادری اور عراق کے پڑوسی ممالک کو چاہیے کہ وہ وہاں استحکام کے لیے تعاون کریں۔ انہوں نے کہا کہ عراق میں حالات کی بہتری پورے خطے کے استحکام کے لیے انتہائی ضروری ہے۔ شہزادہ فیصل نے کہا کہ اگر فوجی کارروائی سے بچنا ہے تو اس کے لیے ضروری ہے کہ دونوں طرف اس کی خواہش موجود ہو۔ انہوں نے کہا کہ ان کے خیال میں ایران کا جوہری پروگرام پرامن مقاصد کے لیے ہے۔ انہوں نے ان ممالک پر تنقید کی جو ان کے بقول اسرائیل کے جوہری پروگرام کے بارے میں خاموش ہیں۔ انہوں نے کہا کہ اسرائیل کے پاس تو توانائی کا بھی بہانہ نہیں تھا اور اسلحہ تیار کرتا ہے۔ انہوں نے کہا کہ مشرق وسطی ٰ میں جوہری ٹیکنالوجی کے پھیلاؤ کا ذمہ دار اسرائیل ہے۔ سعودی عرب کے شاہ عبداللہ کے برطانیہ کے دورے دوران ان کے دہشت گردی کے بارے میں بیان اور برطانیہ میں سعودی عرب میں انسانی حقوق کے بارے میں تشویش کی وجہ سے یہ دورہ تنازعہ کا بھی شکار ہے۔ | اسی بارے میں پابندیاں بری طرح ناکام ہونگی: ایران26 October, 2007 | آس پاس ایران پر امریکہ کی نئی پابندیاں25 October, 2007 | آس پاس ’ایران کو ہتھیار نہیں مل سکتے‘22 October, 2007 | آس پاس امریکہ ایران پر حملے کی تیاری کر رہا ہے؟16 August, 2007 | آس پاس | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||