BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
آر ایس ایس کیا ہے
آر ایس ایس کیا ہے
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: Thursday, 25 October, 2007, 21:41 GMT 02:41 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
ایران پر امریکہ کی نئی پابندیاں
پاسداران انقلاب پر امریکہ دہشت گردی کی حمایت کرنے کا الزام لگاتا ہے
امریکہ نے دہشت گردی کی مبینہ حمایت اور جوہری پروگرام جاری رکھنے کی پاداش میں ایران پر عائد اقتصادی اور دفاعی پابندیوں کو مزید سخت کر دیا ہے۔

نئی پابندیوں کا ہدف ایران کے پاسدارانِ انقلاب اور تین سرکاری بینک ہیں۔

امریکی وزیر خارجہ کونڈولیزارائس نے کہا ہے کہ ان اقدامات کا تعلق امریکہ کی وسیع تر پالیسی کا حصہ ہے جس کے تحت ایران کے جارحانہ رویے کا مقابلہ کرنا ہے۔

ایران نے ان اقدامات پر اپنے رد عمل کا اظہار کرتے ہوئے کہا ہے کہ امریکی جارحانہ پالیسی بین الاقوامی قوانین سے متصادم ہے اور امریکہ پر دوغلے پن کا الزام عائد کیا ہے۔

امریکہ نے ایران کے پاسداران انقلاب کو وسیع تباہی پپھلانے والے ہتھیاروں کو عام کرنے والی تنظیم قرار دیا جو کہ پاسدارانِ انقلاب کے بین البراعظمی میزائل پروگرام کی طرف ایک اشارہ ہے۔ جبکہ پاسدارانِ انقلاب کی سمندر پار کارروائیوں کی مجاز ذیلی تنظیم القدس فورس کو دہشت گردوں کی حمایتی قرار دیا گیا ہے۔

ایران کا ردعمل
 جو قوم خود وسیع تباہی پھلانے والے ہتھیار بڑی تعداد میں بناتی ہو دہشت گرد تنظیمیں بنا چکی ہو اور بہت سی اب تک چلاتی ہو وہ ایرانی قوم کی ترقی میں روکاوٹیں حائل نہیں کر سکتی اور نہ ہی ایران کے قانونی اور جائز اداروں کو ختم کر سکتی ہے۔
ایرانی ترجمان

امریکہ نے بار ہا پاسداران انقلاب پر عراق اور افغانستان میں کارروائیاں کرنے اور مزاحمت کاروں کو اسلحہ اور تربیت فراہم کرنے کے الزامات عائد کرتا رہا ہے۔

امریکی وزیر خارجہ نے ایران پر مسلسل غلط زبان استعمال کرنے اور ایسی ٹیکنالوجی کے حصول کی کوششیں جاری رکھنے کا الزام لگایا جن کے ذریعے جوہری ہتھیار بنائے جا سکیں اور میزائل نظام قائم کیا جاسکے۔

انہوں نے کہا کہ ایران عراق، افغانستان، لبنان اور فلسطینی علاقوں میں دہشت گردوں کی مدد کر رہا ہے اور اسرائیل کو تباہ کرنے کی دھمکی دے چکا ہے۔

امریکی حکام سرکاری حکم نامے تیرہ ہزار تین سو بیاسی کے تحت کسی بھی امریکی شہری یا کمپنی کو ایران کے پاسداران انقلاب سے لین دین کرنے سے روک سکتے ہیں اور پاسدارانِ انقلاب کے اثاثے منجمد کر سکتے ہیں۔

ایرانی وزارتِ دفاع جو ملکی دفاعی صنعت اور امریکی پابندیوں میں نامزد کردہ تین سرکاری بینک اور کئی کمپنیاں چلاتی ہے وہ بھی اس امریکی حکمنامے میں نامزد کی گئی ہے۔

کونڈولیزا رائس نے کہا کہ یہ اقدامات بین الاقوامی مالیاتی نظام میں ایران کی غیر قانونی کارروائیوں کو روکنے میں مدد گار ثابت ہوں گے۔

برطانوی حکومت نے امریکہ کے ان اقدامات کی حمایت کی ہےجبکہ ایران کی وزارتِ خارجہ نے ان کی سختی سے مذمت کی ہے۔

سرکاری ریڈیو پر ایرانی حکومت کے ایک ترجمان نے کہا کہ امریکہ کی جارحانہ پالیسیاں جو کہ غیرت مند ایرانی قوم اور اس کے قانونی اداروں کے خلاف ہیں وہ بین الاقوامی قوانین سے بھی متصادم ہیں۔

علی محمد حسینی نے کہا کہ جو قوم خود وسیع تباہی پھلانے والے ہتھیار بڑی تعداد میں بناتی ہو اس کا اس طرح کا فیصلہ نا قابلِ فہم ہے۔ انہوں نےکہا جو قوم کئی دہشت گرد تنظیمیں بنا چکی ہو اور بہت سی اب تک چلاتی ہو وہ ایرانی قوم کی ترقی میں روکاوٹیں حائل نہیں کر سکتی اور نہ ہی ایران کے قانونی اور جائز اداروں کو ختم کر سکتی ہے۔

مبصرین کے مطابق ابھی یہ واضح نہیں ہے کہ ایران کے خلاف تازہ امریکی پابندیاں کس حد تک کارگر ثابت ہوتی ہیں اور کیا پاسداران انقلاب کے امریکہ میں کوئی اثاثے موجود ہیں۔ تاہم ان کا کہنا ہے کہ یہ پابندیاں دوسرے ملکوں اور کمپنیوں کو ایران کے ساتھ تجارت اور لین دین کرنے کی حوصلہ شکنی کریں گے۔

پاسداران انقلاب کی قدس فورس پر امریکہ الزام لگاتا رہا ہےکہ یہ عراق میں شیعہ شدت پسندوں کو انتہائی طاقت ور بارودی سرنگیں اور راکٹ سے داغے جانے والے گرنیڈ فراہم کر رہی ہے۔

قدس فورس جس کے پاس ڈیڑھ ہزار فوجی ہیں سمندر پار خفیہ کارروائیاں کرنے اور شیعہ نتظیموں سے رابطے استوار کرنے کی ذمہ دار ہیں۔

اسی بارے میں
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد