امریکہ انخلاء کی تاریخ دے: روس | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
روسی صدر ولادیمیر پوتن نے کہا ہے کہ امریکہ عراق سے فوجی انخلاء کے لیے ایک تاریخ کا اعلان کرے۔ انہوں نے یہ بات روسی ٹیلیویژن پر ایک ایسے پروگرام میں کہی جہاں روسی عوام نے داخلی اور خارجی امور پر ان سے سوالات کیے۔ ولادیمیر پوتن نے کہا کہ جب تک امریکہ عراق سے فوجی انخلاء کی تاریخ مقرر نہیں کر دیتا عراقی حکومت اس وقت تک اپنی فوج کی تیاری کے حوالے سے تیزی نہیں دکھائے گی۔ روسی صدر کا یہ بھی کہنا تھا کہ عراق میں امریکی موجودگی کی ایک حد تک وجہ عراق کے تیل کے ذخائر پر پر کنٹرول حاصل کرنا بھی ہے۔ تاہم ان کا کہنا تھا کہ امریکہ عراق میں ایک مقبول ہوتی مزاحمت کے خلاف بےمقصد جنگ میں مصروف ہے۔ انہوں نے کہا کہ’ کسی ملک کی آمر حکومت کو تو سیاسی نقشے سے ہٹایا جا سکتا ہے لیکن اس ملک کے عوام سے لڑنا بالکل بےمقصد بات ہے‘۔ انہوں نے روسی عوام سے کہا کہ عراق کے برعکس ان کی فوج اپنی سر زمین اور اس کے وسائل کی حفاظت کے لیے تیار ہے۔ ان کا یہ بھی کہنا تھا کہ روس اپنی افواج میں بڑے پیمانے پر بہتری لائے گا جس میں نئی میزائل ٹیکنالوجی اور جوہری اسلحہ خانے کو جدید بنانا بھی شامل ہے۔ امریکہ اور روس کے مابین یورپ میں امریکی دفاعی میزائل نظام کی تنصیب کے حوالے سے تناؤ پایا جاتا ہے اور روسی صدر نے کہا ہے کہ اگر امریکہ دفاعی نظام کی تنصیب کے ارادے سے باز نہ آیا تو روس ہتھیاروں کی تنصیب کے عمل میں اضافہ کر دے گا۔ | اسی بارے میں ’عراق امریکہ کے لیے بھیانک خواب‘13 October, 2007 | آس پاس روس نے ایران کی حمایت کر دی17 October, 2007 | آس پاس ایران پر روس اور امریکہ کا اتفاق02 July, 2007 | آس پاس سنگین نتائج بھگتنا ہوں گے: روس 17 July, 2007 | آس پاس امریکہ روسی تنظیموں کا حامی13 October, 2007 | آس پاس اصلاحات: بُش کی روس پر تنقید05 June, 2007 | آس پاس میونخ کانفرنس، توجہ ایران پر11 February, 2007 | آس پاس جوہری پروگرام پر ایران کا اصرار11 February, 2007 | آس پاس | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||