BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
آر ایس ایس کیا ہے
آر ایس ایس کیا ہے
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: Wednesday, 17 October, 2007, 00:30 GMT 05:30 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
روس نے ایران کی حمایت کر دی
ولادیمیر پوتن اور آیت آللہ خامنہ ای
صدر پوتن نے قتل کی خبروں کی پرواہ نہ کرتے ہوئے ایران کا دورہ کیا
روس کے صدر ولادیمیر پوتن جو اسوقت بحیرہ کیسپیئن سے جڑے ممالک کی سربراہی کانفرنس میں شرکت کے لیے ایران میں ہیں، صحافیوں سے بات کرتے ہوئے ایران کے خلاف فوجی طاقت کے استعمال پر خبردار کرتے ہوئے کہا ہے کہ ایران کو پر امن جوہری پروگرام جاری رکھنے کی اجازت ہونا چاہیے۔

روسی صدر نے ایران کے حق میں تو یہ بات کی مگر انہوں نے یہ بتانے سے گریز کیا کہ آیا روس کی مدد سے بننے والا جوہری توانائی کا پلانٹ وقت پر مکمل ہو سکے گا اور کیا روس اس پلانٹ کو جوہری ایندھن مہیا کرے گا یا نہیں۔

ایران کی خواہش ہے کہ روس ایرن کے جوہری پروگرام پر مغربی ممالک کے ساتھ تنازعے میں مصالحانہ کردار ادا کرے۔ اب تک روس نے ایران کو مزید پابندیوں سے بچایا ہوا ہے۔ کیونکہ اس کے مطابق ایران کے پروگرام پر اقوام متحدہ کے جوہری امور کے نگراں ادارے آئی اے ای اے کو بات چیت کا موقع ملنا چاہیے تاکہ معاملات بغیر کسی تنازعے کے حل ہو سکیں۔ آئی اے ای اے ایران سے چند ایک معاملات پر وضاحتیں چاہتا ہے۔

انیس سو تینتالیس میں سٹالن امریکی صدر روزوویلٹ اور برطانوی وزیراعظم چرچل کے ہمراہ تہران کانفرنس میں شریک ہوئے تھے

روسی صدر ولادیمیر پوتن نے کہا کہ بحیرہ کیسپئین کے ممالک کی سربراہی کانفرنس نے اس بات پر اتفاق رائے کیا ہے کہ خطے کے ممالک کو پر امن مقاصد کے لیے جوہری منصوبوں پر کام کرنے کی اجازت ہونا چاہیے۔ انہوں نے بتایا کہ سربراہی کانفرنس میں اس بات کا بھی اعلان کیا گیا ہے کہ یہ ممالک اپنی سرزمین کو کسی ہمسائیہ ملک کے خلاف جارحانہ کاروائی کے لیے استمعال نہیں ہونے دیں گے۔

اس سے قبل روس کے خفیہ اداروں نے صدر پوتن کو ایران کے دورے کے دوران ممکنہ قاتلانہ حملے کے بارے میں متنبہ کیا تھا لیکن انہوں نے دورہ منسوخ نہیں کیا۔

صدر پوتن انیس سو تینتالیس میں سٹالن کے ایران کے دورے کے بعد پہلے روسی صدر ہیں جو سرکاری دورے پر منگل کو تہران پہنچے۔ اس سے قبل انہیں سوموار کو تہران پہنچنا تھا۔

تہران جانے سے قبل انہوں نے کہا تھا کہ وہ دورے کے دوران ایرانی رہنماؤں سے ایران کے متنازعہ جوہری پروگرام کے بارے میں بات کریں گے۔ انہوں نے کہا کہ ’ایران اور اس کے عوام کو خوف زدہ کرنا بے سود ہے، وہ خوفزدہ نہیں ہیں‘۔

انہوں نے ایران کے جوہری پروگرام سے متعلق تنازعہ کے پرامن حل پر زور دیا اور عالمی برادری سے تحمل کی اپیل کی۔

اسی بارے میں
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد