پوتن کا ایران کا تاریخی دورہ | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
روسی کے صدر ولادیمیر پوتن انیس سو تینتالیس کے بعد کسی روسی صدر کے ایران کے پہلے دورے پر تہران پہنچ گئے ہیں۔ روس کے خفیہ اداروں نے صدر پوتن کو ایران کے دورے کے دوران ممکنہ قاتلانہ حملے کے بارے میں متنبہ کیا تھا لیکن انہوں نے دورہ منسوخ نہیں کیا۔ صدر پوتین انیس سو تینتالیس میں سٹالن کے ایران کے دورے کے بعد پہلے روسی صدر ہیں جو سرکاری دورے پر منگل کو تہران پہنچے ہیں۔ اس سے قبل انہیں سوموار کو تہران پہنچنا تھا۔ تہران جانے سے قبل انہوں نے کہا تھا کہ وہ دورے کے دوران ایرانی رہنماؤں سے ایران کے متنازعہ جوہری پروگرام کے بارے میں بات کریں گے۔ انہوں نے کہا کہ ’ایران اور اس کے عوام کو خوف زدہ کرنا بے سود ہے، وہ خوفزدہ نہیں ہیں‘۔ انہوں نے ایران کے جوہری پروگرام سے متعلق تنازعہ کے پرامن حل پر زور دیا اور عالمی برادری سے تحمل کی اپیل کی۔
صدر پوتن جوزف سٹالن کے بعد ایران جانے والے پہلے روسی صدر ہوں گے۔ سٹالن نے انیس سو تینتالیس میں اتحادی قوتوں کے سربراہی اجلاس میں حصہ لینے کے لیے ایران کا دورہ کیا تھا۔ خبر رساں ایجنسی انٹرفیکس نے روس کے خفیہ اداروں میں ذرائع کے حوالے سے خبر دی تھی کہ تہران میں خودکش حملہ آوروں کا ایک گروہ صدر پوتن کو ہلاک کرنے کی کوشش کر سکتا ہے۔ ایران کی وزارت خارجہ نے ان اطلاعات کو قطعاً بے بنیاد قرار دے کر رد کر دیا تھا۔ ایران کے دورے کے دوران صدر پوتن بحیرہ کیسپین کے ممالک کے ایک سربراہی اجلاس میں بھی شرکت کریں گے۔ نامہ نگاروں کا کہنا ہے کہ روس اور ایران کے درمیان اچھے تعلقات قائم ہیں اور روس ایران کے بُشہر جوہری پلانٹ کی تعمیر میں بھی مدد کر رہا ہے۔ | اسی بارے میں پوتن ’قتل کے منصوبے‘ سے آگاہ15 October, 2007 | آس پاس ایران پر روس اور امریکہ کا اتفاق02 July, 2007 | آس پاس سنگین نتائج بھگتنا ہوں گے: روس 17 July, 2007 | آس پاس امریکہ روسی تنظیموں کا حامی13 October, 2007 | آس پاس اصلاحات: بُش کی روس پر تنقید05 June, 2007 | آس پاس میونخ کانفرنس، توجہ ایران پر11 February, 2007 | آس پاس جوہری پروگرام پر ایران کا اصرار11 February, 2007 | آس پاس | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||