BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
آر ایس ایس کیا ہے
آر ایس ایس کیا ہے
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: Tuesday, 16 October, 2007, 03:11 GMT 08:11 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
پوتن کا ایران کا تاریخی دورہ
ولادیمیر پوتن
ایران نے کہا ہے کہ قتل کے منصوبے کی خبریں روس اور ایران کے تعلقات خراب کرنے کی کوشش ہیں
روسی کے صدر ولادیمیر پوتن انیس سو تینتالیس کے بعد کسی روسی صدر کے ایران کے پہلے دورے پر تہران پہنچ گئے ہیں۔ روس کے خفیہ اداروں نے صدر پوتن کو ایران کے دورے کے دوران ممکنہ قاتلانہ حملے کے بارے میں متنبہ کیا تھا لیکن انہوں نے دورہ منسوخ نہیں کیا۔

صدر پوتین انیس سو تینتالیس میں سٹالن کے ایران کے دورے کے بعد پہلے روسی صدر ہیں جو سرکاری دورے پر منگل کو تہران پہنچے ہیں۔ اس سے قبل انہیں سوموار کو تہران پہنچنا تھا۔

تہران جانے سے قبل انہوں نے کہا تھا کہ وہ دورے کے دوران ایرانی رہنماؤں سے ایران کے متنازعہ جوہری پروگرام کے بارے میں بات کریں گے۔ انہوں نے کہا کہ ’ایران اور اس کے عوام کو خوف زدہ کرنا بے سود ہے، وہ خوفزدہ نہیں ہیں‘۔

انہوں نے ایران کے جوہری پروگرام سے متعلق تنازعہ کے پرامن حل پر زور دیا اور عالمی برادری سے تحمل کی اپیل کی۔

روس ایران کے بشہر جوہری پلانٹ کی تعمیر میں بھی مدد کر رہا ہے۔
روسی صدر کے ترجمان نے اس بات کی تصدیق کی ہے کہ ان کے دورے کے بارے میں پیدا ہونے والی غیریقینی صورتحال کی وجہ مبینہ قاتلانہ حملے کے امکان کی خبریں تھی۔ انہوں نے بی بی سی کو بتایا کہ منصوبے کی اطلاعات انتہائی معتبر تھیں لیکن وہ مسئلے کی نزاکت کی وجہ سے تفصیل نہیں بتا سکتے۔

صدر پوتن جوزف سٹالن کے بعد ایران جانے والے پہلے روسی صدر ہوں گے۔ سٹالن نے انیس سو تینتالیس میں اتحادی قوتوں کے سربراہی اجلاس میں حصہ لینے کے لیے ایران کا دورہ کیا تھا۔

خبر رساں ایجنسی انٹرفیکس نے روس کے خفیہ اداروں میں ذرائع کے حوالے سے خبر دی تھی کہ تہران میں خودکش حملہ آوروں کا ایک گروہ صدر پوتن کو ہلاک کرنے کی کوشش کر سکتا ہے۔ ایران کی وزارت خارجہ نے ان اطلاعات کو قطعاً بے بنیاد قرار دے کر رد کر دیا تھا۔

ایران کے دورے کے دوران صدر پوتن بحیرہ کیسپین کے ممالک کے ایک سربراہی اجلاس میں بھی شرکت کریں گے۔

نامہ نگاروں کا کہنا ہے کہ روس اور ایران کے درمیان اچھے تعلقات قائم ہیں اور روس ایران کے بُشہر جوہری پلانٹ کی تعمیر میں بھی مدد کر رہا ہے۔

اسی بارے میں
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد