BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
آر ایس ایس کیا ہے
آر ایس ایس کیا ہے
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: Monday, 22 October, 2007, 10:19 GMT 15:19 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
’ایران کو ہتھیار نہیں مل سکتے‘
ڈِک چینی
ڈِک چینی کا کہنا ہے کہ امریکہ ایران کو واضح پیغام دینا چاہتا ہے
امریکہ کے نائب صدر ڈِک چینی نے ایرانی حکومت کو خبردار کیا ہے کہ اسے جوہری ہتھیار حاصل کرنے کی اجازت نہیں دی جائے گی۔

ڈک چینی کا کہنا تھا کہ اگر ’دہشت گردی کی حمایت کرنے والا ایک ملک اپنی اس بڑی خواہش کی تکمیل کرے گا‘ تو امریکہ اور اقوام متحدہ خاموش تماشائی نہیں رہ سکتے۔

امریکی نائب صدر نے الزام لگایا کہ ایران تاخیری حربے اور دھوکے سے اپنا جوہری پروگرام جاری رکھنا چاہتا ہے اور مشرق وسطیٰ میں قیام امن میں رکاوٹ بنے رہنا چاہتا ہے۔

ایران کا دعویٰ ہے کہ اس کا جوہری پروگرام غیر دفاعی مقاصد کے لیے ہے نہ کہ بم بنانےکے لیے۔

اقوام متحدہ کی سکیورٹی کونسل کے پانچ مستقل ارکان اور جرمنی کو نومبر میں اس کا فیصلہ کرنا ہے کہ یورینیم کی افزودگی جاری رکھنے پر ایران کے خلاف مزید پابندیاں لگائی جانی چاہئیں یا نہیں۔

اتوار کو ’واشنگٹن انسٹی ٹیوٹ برائے مشرقِ قریب‘ کے زیر اہمتام ایک سیمینار سے خطاب کرتے ہوئے ڈِک چینی نے کہا کہ ’سکیورٹی کونسل دو مرتبہ ایران پر پابندیاں لگا چکی ہے اور اسے یورینیم کی افزودگی روکنے کو کہہ چکی ہے لیکن ایرانی حکومت مسلسل تاخیر کر رہی ہے اور دھوکہ دے رہی ہے۔‘

امریکی نائب صدر کا مزید کہنا تھا کہ ’ ایرانی حکومت کو معلوم ہونا چاہیئے کہ اگر وہ اپنی موجودہ روش جاری رکھتی ہے تو عالمی برادری اس کے خلاف سخت پابندیاں لگانے کے لیے تیار ہے۔‘

’امریکہ دوسرے ممالک کے ساتھ مل کر ایران کو یہ واضح پیغام دینا چاہتا ہے کہ ہم ایران کو جوہری ہتھیار حاصل کرنے کی اجازت نہیں دیں گے۔‘

واشنگٹن میں بی بی سی کی نامہ نگار سارہ مورس کا کہنا ہے کہ گزشتہ چند ہفتوں سے امریکی انتظامیہ کی جانب سے ایران پر تنقید میں شدت آ چکی ہے۔

گزشتہ ہفتے صدر جارج بش نے کہا تھا کہ ایک جوہری ایران ہمیں تیسری عالمی جنگ کی جانب لیجا سکتا ہے۔

ڈِک چینی کے بیان سے ایک دن قبل جوہری معاملات پر مغربی ممالک کے ساتھ مذاکرات کرنے والے ایرنی سفارتکار علی لاریجانی نے اپنے عہدے سے استعفیٰ دیدیا ہے۔

نامہ نگاروں کا کہنا ہے کہ علی لاریجانی اور صدر احمد نژاد کے درمیان اس بات پر اختلافات تھے کہ جوہری مذاکرات کو آگے کس سمت میں جانا چاہیے۔

تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ علی لاریجانی کے استعفے سے یہ اشارہ ملتا ہے کہ ایران کے جوہری معاملے پر صدر احمدی نژاد کے سخت مؤقف کو روحانی رہبر اعلیٰ آیت اللہ علی خامنائی کی حمایت حاصل ہے۔

اسی بارے میں
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد