BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
آر ایس ایس کیا ہے
آر ایس ایس کیا ہے
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: Sunday, 02 September, 2007, 14:02 GMT 19:02 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
’ایران نے اہم ایٹمی ہدف حاصل کر لیا‘
ایرانی تنصیبات
تین ہزار سینٹری فیوجِز ایران کا وسط مدتی ہدف ہیں
ایران کے صدر احمدی نژاد نے کہا ہے کہ ایران نے اپنے جوہری پروگرام میں اہم ہدف حاصل کر لیا ہے اور اب اس کے پاس یورینیم کی افزودگی کے لیے 3000 سینٹری فیوجِز موجود ہیں۔

احمدی نژاد نے اس عزم کا اعادہ بھی کیا ہے کہ ایران کو ایٹمی منصوبہ بندی سے باز رکھنے کے لیے اقوامِ متحدہ کی جانب سے لگائی گئی پابندیوں کے باوجود وہ اپنے جوہری اہداف کو حاصل کرنے کی کوشش جاری رکھیں گے۔

سینٹری فیوجِز کی مدد سے یورینیم کو نہ صرف بجلی گھروں میں بجلی پیدا کرنے کی حد تک افزودہ کرنے کے لیے استعمال کیا جا سکتا ہے بلکہ ان کی مدد سے ایٹم بم بھی بنایا جا سکتا ہے۔

ایرانی خبر رساں ادارے کی طرف سے صدر احمدی نژاد سے منسوب بیان میں کہا گیا ہے: ’ہمارے پاس اب تین ہزار سے زائد کار آمد سینٹری فیوجِز ہیں اور ہر ہفتے ایک نیا سیٹ تیار کیا جا رہا ہے‘۔

پُرعزم کون؟
احمدی نژاد
 عالمی طاقتیں یہ سمجھتی تھیں کہ ایران کے خلاف ہر ایک قرارداد کے بعد ایران کے حوصلے پست ہوتے جائیں گے لیکن اس کے برعکس ایران نے ہر قرارداد کے بعد اپنے ایٹمی پروگرام میں ایک نیا ہدف حاصل کیا

انہوں نے مزید کہا کہ عالمی طاقتیں یہ سمجھتی تھیں کہ ایران کے خلاف ہر ایک قرارداد کے بعد ایران کے حوصلے پست ہوتے جائیں گے لیکن اس کے برعکس ایران نے ہر قرارداد کے بعد اپنے ایٹمی پروگرام میں ایک نیا ہدف حاصل کیا۔

ایران 3000 سینٹری فیوجِز کی تنصیب کو اپنے جوہری پروگرام کا وسط مدتی ہدف قرار دیتا ہے اور اسے یہ ہدف اسی سال مارچ میں حاصل کرنا تھا۔ اس ایرانی دعوے کی تاحال آزادانہ ذرائع سے تصدیق نہیں ہو سکی۔

گزشتہ ہفتے ہی ایٹمی ہتھیاروں کے عدم پھیلاؤ کے نگران ادارے بین الاقوامی ایجنسی برائے جوہری توانائی یعنی آئی اے ای اے نے کہا تھا کہ ایران اپنے جوہری پروگرام کے حوالے سے اہم سوالات کی وضاحت کرنے پر رضامند ہو گیا ہے۔

آئی اے ای اے نے اعتراف کیا تھا کہ ایران کا جوہری پروگرام جاری ہے تاہم اس کی جوہری سرگرمیوں کی رفتار سست ہے۔ بیشتر مغربی سفارتکاروں نے آئی اے ای اے کے بیان کو مسترد کرتے ہوئے کہا تھا کہ ایران مزید پابندیوں میں تعطل کے لیے نرم رویّہ دکھا رہا ہے۔

تہران میں بی بی سی کے نامہ نگار جان لیئن کا کہنا ہے کہ ایک طرف ایران اس مسئلے کے حل کے لیے مذاکرات کرنے پر رضامندی کا اظہار کر رہا ہے تو دوسری طرف صدر احمدی نژاد ایران کی یورینیم کی افزودگی کی صلاحیت بڑھنے کا ڈنکا بجا رہے ہیں اور اقوامِ متحدہ یہ رویہ کسی صورت میں قبول نہیں کرے گی۔

ایک نئی سرد جنگ؟
امریکہ اور ایران میں بڑھتی ہوتی ہوئی خلیج
ایرانی صدر محمد احمدی نژادصدر احمدی نژاد
سلامتی کونسل سے خطاب کی خواہش
اسی بارے میں
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد