جوہری ادارے کے تحفظات دُور:ایران | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
ایرانی حکام کا کہنا ہے کہ انہوں نے اقوامِ متحدہ کے جوہری نگرانی کے ادارے کی جانب سے پلوٹونیم تجربات کے حوالے سے اٹھائے جانے والے سوالات کے جواب دے دیے ہیں۔ اس بات کا اعلان ایران اور آئی اے ای اے کے تعاون کے نظام الاوقات کے مسودے میں کہی گئی ہے۔ نظام الاوقات کے حوالے سے ایک ہفتہ قبل ایران اور آئی اے ای اے کے درمیان ایک سمجھوتہ ہوا تھا جس کا مسودہ پیر کو منظرِ عام پر آیا ہے۔ اس مسودے میں کہا گیا ہے کہ آئی اے ای اے نے تسلیم کیا ہے کہ ایجنسی کی تحقیقات ایران کی جانب سے(پلوٹونیم کے معاملے پر) دیے گئے بیانات کی تصدیق کرتی ہیں اور اس طرح یہ معاملہ حل ہو چکا ہے۔ یہ گزشتہ چار برس میں ایران کی جوہری سرگرمیوں کے حوالے سے حل ہونے والا یہ پہلا معاملہ ہے۔ ایران کا یہ بھی کہنا ہے کہ وہ ان خدشات کو دور کرنے میں بھی تعاون کرے گا جن کے مطابق ایران جوہری ہتھیاروں کی تیاری کے لیے ایک خفیہ فوجی منصوبے پر کام کر رہا ہے۔ تاہم ایرانی حکام نے ان خدشات کو’سیاسی‘ اور ’بے بنیاد‘ قرار دیا ہے۔ ادھر اقوامِ متحدہ کے جوہری ادارے میں امریکی نمائندے گریگری شلٹ نے کہا ہے کہ ایران آئی اے ای اے کو اپنے مقصد کے لیے استعمآل کررہا ہے تاکہ وہ سخت پابندیوں سے بچ سکے۔ ان کا یہ بھی کہا تھا کہ ایران یورینیم کی افزودگی بند نہ کر کے اقوامِ متحدہ کے اہم ترین مطالبے کو مسلسل ٹال رہا ہے اور اسی لیے امریکہ ایران پر پابندیاں عائد کے تیسرے مرحلے کا حامی ہے۔ یاد رہے کہ اقوامِ متحدہ کی سلامتی کونسل ایران پر پہلے ہی دو مراحل میں پابندیاں عائد کر چکی ہے۔ | اسی بارے میں ’مزید پابندیوں کا وقت آگیا ہے‘23 May, 2007 | آس پاس ’ایران کےمعاملےمیں مغرب ناکام رہا ہے‘15 May, 2007 | آس پاس ’ایران ابھی ابتدائی مراحل میں ہے‘ 13 April, 2007 | آس پاس ایران پر پابندیاں، اہم پیش رفت03 March, 2007 | آس پاس افزودگی کی بندش کا مطالبہ مسترد23 February, 2007 | آس پاس | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||