BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
آر ایس ایس کیا ہے
آر ایس ایس کیا ہے
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: Tuesday, 15 May, 2007, 15:49 GMT 20:49 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
’ایران کےمعاملےمیں مغرب ناکام رہا ہے‘
محمد البرادی
’ایران افزودگی کی تکنیک حاصل کرنے میں کامیاب ہو گیا ہے‘
اقوام متحدہ کے جوہری امور کے ادارے انٹرنیشنل اٹامک انرجی ایجنسی (آئی اے ای اے) نے کہا ہے کہ مغربی ممالک ایران کے ایٹمی پروگرام کو روکنے میں ناکام ہو چکی ہیں۔

ایک امریکی اخبار کو انٹرویو دیتے ہوئے آئی اے ای اے کے سربراہ محمد البرادی نے کہا ہے کہ ایران کے ایٹمی پروگرام کا مسئلہ بدلتے ہوئے بین الاقوامی حالات کی وجہ سے تاخیر کا شکار ہوتا رہا ہے جس کی وجہ سے ایران ایٹم بم بنانے کے لیے درکار یورینیم کی افزودگی کی تکنیک حاصل کرنے میں کامیاب ہو گیا ہے۔

ایران مغربی ممالک کی جانب سے ان الزامات کو مسترد کرتا آیا ہے کہ وہ ایٹمی ہتھیار بنانے کا ارادہ رکھتا ہے۔

بین الاقوامی ایجنسی برائے ایٹمی توانائی کے معائنہ کاروں نے انکشاف کیا ہے کہ ایران ایٹمی ہتھیاروں کے لیے درکار یورینیم کی افزودگی کے حوالے سے درپیش مسائل کو حل کرنے میں کامیاب ہو گیا ہے۔

مغرب کے پاس کیا حل ہے؟
 ’ایران کو ایٹمی ہتھیار بنانے سے باز رکھنے کے لیے اب یہ کوششیں کی جانی چاہیئیں کہ ایران کو صنعتی سطح پر یورینیم کی افزودگی کا موقع نہ دیا جائے۔ آئی اے ای اے کو ایرانی تنصیبات کی مکمل انسپیکشن کرنے کی اجازت دی جائے اور اس بات کو یقینی بنایا جائے کہ ایران اپنے معاہدوں کا پابند رہے
محمد البرادی

محمد البرادی کا کہنا ہے کہ ’مغربی ممالک کے لیےایک بری خبر یہ ہے کہ اب ایران کو صرف یورینیم کی افزودگی کے طریقے میں مہارت حاصل کرنے کی ضرورت ہے‘۔

آئی اے ای اے کی طرف سے یہ بیان اس کے معائنہ کاروں کی طرف سے اتوار کو ایرانی ایٹمی تنصیبات کے معائنے کے بعد سامنے آیا ہے۔

محمد البرادی نے امریکی اخبار کو بتایا کہ ’اگر ایٹمی ہتھیاروں کے عدم پھیلاؤ سے متعلق کوششوں پر نظرثانی کی جائے تو ان میں یہ امر انتہائی اہمیت کا حامل تھا کہ ایران کو یورینیم کی افزودگی کرنے کا طریقہ معلوم نہ ہو۔ لیکن صورتحال اس کے برعکس ہے اس لیے مغربی ممالک کی کوششیں ناکام ہوتی ہوئی دکھائی دے رہی ہیں‘۔

انہوں نے مزید کہا کہ ’ایران کو ایٹمی ہتھیار بنانے سے باز رکھنے کے لیے اب یہ کوششیں کی جانی چاہیئیں کہ ایران کو صنعتی سطح پر یورینیم کی افزودگی کا موقع نہ دیا جائے۔ آئی اے ای اے کو ایرانی تنصیبات کی مکمل انسپیکشن کرنے کی اجازت دی جائے اور اس بات کو یقینی بنایا جائے کہ ایران اپنے معاہدوں کا پابند رہے‘۔

اس سے قبل آئی اے ای اے کے سربراہ محمد البرادی نے کہا تھا کہ ایران ابھی یورینیم کی افزودگی کے ابتدائی مراحل میں ہے اور وہ ایران یورینیم کو صعنتی درجے تک افزودہ کرنے کا اہل نہیں ہے۔

آئی اے ای اے کے سربراہ کے اس بیان سے مغربی ممالک امریکہ، برطانیہ، فرانس، جرمنی اور روس کی حکومتیں مزید دباؤ میں آ جائیں گی جن کی ایران کو ایٹمی منصوبہ بندی سے باز رکھنے کی کوششیں ناکام ہو چکی ہیں۔

ایران کے ایٹمی پروگرام کے حوالے سے انٹرنیشنل اٹامک انرجی ایجنسی اپنی تازہ رپورٹ آئندہ ہفتے اقوامِ متحدہ کی سکیورٹی کونسل میں پیش کرے گی۔

اسی بارے میں
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد