’ایران ابھی ابتدائی مراحل میں ہے‘ | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
اقوام متحدہ کے نگران جوہری ادارے آئی اے ای اے کے سربراہ محمد البرادی نے کہا ہے کہ ایران ابھی یورینیم کی افزودگی کے ابتدائی مراحل میں ہے۔ محمد البرادی نے کہا کہ ایران یورینم کو صعنتی درجے تک افزودہ کرنے کا اہل نہیں ہے جیسا کہ وہ دعوے کر رہا ہے۔ ڈاکٹر البرادی نے کہا ایران کے سینکڑوں سیٹنری فیوجز یورینیم کو افزودہ کر رہے ہیں جبکہ صعنتی درجہ تک پہنچے کے لیے ہزاروں سینٹری فیوجز کی ضرورت ہوتی ہے۔ ایران کا موقف ہے کہ اس کا جوہری پروگرام پرامن مقاصد کے لیے ہے جبکہ مغربی ممالک کو خدشہ ہے کہ ایران جوہری ہتھیار حاصل کرنے کی کوشش کر رہا ہے۔ پیر کے روز ایرانی صدر محمود احمدی نژاد نے دعویٰ کیا تھا کہ ایران یورینیم کی افزودگی میں صعنتی درجہ حاصل کرنے کے بعد اب ایٹمی ممالک کی فہرست میں شامل ہو چکا ہے۔ روس نے بھی ایران کے دعوؤں خدشات کا اظہار کیا ہے۔ ڈاکٹر البرادی نے کہا ہے کہ اگر ایران آئی اے ای اے کی زیر نگرانی رہا تو وہ کبھی جوہری ہتھیار حاصل کرنے کی پوزیشن میں نہیں آ سکے گا۔ | اسی بارے میں ایران:’ہرممکن حد تک دفاع کریں گے‘23 February, 2007 | آس پاس ’ایران نے ڈیڈلائن پر عمل نہیں کیا‘22 February, 2007 | آس پاس ایران ایٹمی ہتھیار بنارہا ہے: امریکہ22 April, 2006 | آس پاس این پی ٹی سے الگ ہونے کی دھمکی07 May, 2006 | آس پاس محمد البرادعی ایران پہنچ گئے13 April, 2006 | آس پاس مشروط مذاکرات قبول نہیں:ایران20 February, 2007 | آس پاس البرادی نوبل انعام وصول کریں گے10 December, 2005 | آس پاس | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||