مشروط مذاکرات قبول نہیں:ایران | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
ایرانی صدر محمود احمدی نژاد نے عالمی برادری کی جانب سے یورینیم کی افزودگی کے عمل کو معطل کرنے مطالبے کو رد کرتے ہوئے کہا ہے کہ ایران ایسا صرف اسی صورت میں کرے گا جب اس عمل کا مطالبہ کرنے والے ممالک خود بھی جوہری ایندھن کی تیاری بند کر دیں۔ انہوں نے کہا کہ وہ ایران کے جوہری پروگرام پر مذاکرات کرنا چاہتے ہیں لیکن یہ اسی صورت میں ممکن ہے جب اس حوالے سے کوئی شرط عائد نہ کی جائے۔ یاد رہے کہ اقوامِ متحدہ کی سلامتی کونسل کی جانب سے ایران کو یورینیم کی افزودگی کا عمل روکنے کے لیے دی گئی دو ماہ کی مہلت بھی اکیس فروری کو ختم ہو رہی ہے۔ ادھر جوہری معاملات پر ایران کے چیف مذاکرات کار علی لاریجانی اقوامِ متحدہ کے بین الاقوامی جوہری ادارے کے سربراہ محمد البرادعی سے ویانا میں ملاقات کر رہے ہیں۔ بات چیت کے آغاز سے قبل انہوں نے کہا’ہم مذاکرات کے آغاز کے ممکنہ طریقے تلاش کر رہے ہیں‘۔
آئی اے ای اے کے سربراہ نے حال ہی میں ایک برطانوی اخبار کو دیے گئے انٹرویو میں کہا تھا کہ ایران ممکنہ طور پر صرف چھ ماہ میں صنعتی پیمانے پر یورینیم کی افزودگی کی صلاحیت حاصل کر سکتا ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ ایران کے پاس جوہری پروگرام کے حوالے سے ابتدائی معلومات موجود ہیں اور صرف مذاکرات کے ذریعے ہی اس کے جوہری عزائم پر بند باندھا جا سکتا ہے۔ محمد البرداعی کا یہ بھی کہنا تھا کہ اگر ایران کے خلاف عسکری طاقت استعمال کی گئی تو اس کے نتائج تباہ کن ہوں گے۔ خبر رساں ادارے اے ایف پی نے سفارتکاروں کے حوالے سے کہا ہے کہ ایران کی جانب سے یہ پیشکش بھی کی گئی ہے کہ وہ کمتر درجے کی یورینیم افزودہ کرنے پر تیار ہے جو کہ صرف بطور ایندھن ہی استعمال کیا جا سکتا ہے۔ تاہم امریکہ نے اس قسم کی تجاویز کو رد کر دیا ہے اور کہا ہے کہ اس عمل سے بھی ایران کو افزودگی کا تجربہ حاصل ہو جائے گا جسے مستقبل میں ہتھیاروں کی تیاری میں استعمال کیا جا سکتا ہے۔ ایران کا مؤقف ہے کہ اس کا جوہری پروگرام پرامن ہے اور اس کا مقصد ملکی ضروریات پورا کرنے کے لیے توانائی کی پیداوار ہے تاہم امریکہ اور دیگر یورپی ممالک ایرانی پروگرام کو درپردہ جوہری ہتھیاروں کی تیاری کی کوشش قرار دیتے آئے ہیں۔ | اسی بارے میں میونخ کانفرنس، توجہ ایران پر11 February, 2007 | آس پاس جوہری پروگرام پر ایران کا اصرار11 February, 2007 | آس پاس احمدی نژاد: قرارداد کاغذ کا پرزہ ہے24 December, 2006 | آس پاس یورینیم افزودگی جاری رہےگی: ایران20 August, 2006 | آس پاس ’یو این سے تعاون ختم کر سکتے ہیں‘25 April, 2006 | آس پاس | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||