BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
آر ایس ایس کیا ہے
آر ایس ایس کیا ہے
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: Tuesday, 20 February, 2007, 11:12 GMT 16:12 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
مشروط مذاکرات قبول نہیں:ایران
احمدی نژاد
ہم اپنے مؤقف پر قائم ہیں: احمدی نژاد
ایرانی صدر محمود احمدی نژاد نے عالمی برادری کی جانب سے یورینیم کی افزودگی کے عمل کو معطل کرنے مطالبے کو رد کرتے ہوئے کہا ہے کہ ایران ایسا صرف اسی صورت میں کرے گا جب اس عمل کا مطالبہ کرنے والے ممالک خود بھی جوہری ایندھن کی تیاری بند کر دیں۔

انہوں نے کہا کہ وہ ایران کے جوہری پروگرام پر مذاکرات کرنا چاہتے ہیں لیکن یہ اسی صورت میں ممکن ہے جب اس حوالے سے کوئی شرط عائد نہ کی جائے۔

یاد رہے کہ اقوامِ متحدہ کی سلامتی کونسل کی جانب سے ایران کو یورینیم کی افزودگی کا عمل روکنے کے لیے دی گئی دو ماہ کی مہلت بھی اکیس فروری کو ختم ہو رہی ہے۔

ادھر جوہری معاملات پر ایران کے چیف مذاکرات کار علی لاریجانی اقوامِ متحدہ کے بین الاقوامی جوہری ادارے کے سربراہ محمد البرادعی سے ویانا میں ملاقات کر رہے ہیں۔ بات چیت کے آغاز سے قبل انہوں نے کہا’ہم مذاکرات کے آغاز کے ممکنہ طریقے تلاش کر رہے ہیں‘۔

لاریجانی اور البرادعی کے درمیان ماضی میں بھی ملاقاتیں ہو چکی ہیں

آئی اے ای اے کے سربراہ نے حال ہی میں ایک برطانوی اخبار کو دیے گئے انٹرویو میں کہا تھا کہ ایران ممکنہ طور پر صرف چھ ماہ میں صنعتی پیمانے پر یورینیم کی افزودگی کی صلاحیت حاصل کر سکتا ہے۔

ان کا کہنا تھا کہ ایران کے پاس جوہری پروگرام کے حوالے سے ابتدائی معلومات موجود ہیں اور صرف مذاکرات کے ذریعے ہی اس کے جوہری عزائم پر بند باندھا جا سکتا ہے۔ محمد البرداعی کا یہ بھی کہنا تھا کہ اگر ایران کے خلاف عسکری طاقت استعمال کی گئی تو اس کے نتائج تباہ کن ہوں گے۔

خبر رساں ادارے اے ایف پی نے سفارتکاروں کے حوالے سے کہا ہے کہ ایران کی جانب سے یہ پیشکش بھی کی گئی ہے کہ وہ کمتر درجے کی یورینیم افزودہ کرنے پر تیار ہے جو کہ صرف بطور ایندھن ہی استعمال کیا جا سکتا ہے۔

 صرف مذاکرات کے ذریعے ہی ایران کے جوہری عزائم پر بند باندھا جا سکتا ہے اور اگر اس سلسلے میں عسکری طاقت استعمال کی گئی تو اس کے نتائج تباہ کن ہوں گے۔
محمد البرادعی

تاہم امریکہ نے اس قسم کی تجاویز کو رد کر دیا ہے اور کہا ہے کہ اس عمل سے بھی ایران کو افزودگی کا تجربہ حاصل ہو جائے گا جسے مستقبل میں ہتھیاروں کی تیاری میں استعمال کیا جا سکتا ہے۔

ایران کا مؤقف ہے کہ اس کا جوہری پروگرام پرامن ہے اور اس کا مقصد ملکی ضروریات پورا کرنے کے لیے توانائی کی پیداوار ہے تاہم امریکہ اور دیگر یورپی ممالک ایرانی پروگرام کو درپردہ جوہری ہتھیاروں کی تیاری کی کوشش قرار دیتے آئے ہیں۔

اسی بارے میں
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد