یورینیم افزودگی جاری رہےگی: ایران | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
ایرانی حکومت نے ایک مرتبہ پھر یورینیم کی افزودگی روکنے سے انکار کیا ہے۔ اقوامِ متحدہ کی سلامتی کونسل نے ایران کے جوہری پروگرام پر بات چیت سے قبل یورینیم کی افزودگی روکنے کا مطالبہ کیا تھا۔ ایران کی وزارتِ خارجہ کے ترجمان حامد رضا آصفی کے مطابق افزودگی روکنے کا معاملہ اب ایرانی ایجنڈے پر نہیں۔ ان کا یہ بیان اس ڈیڈ لائن کے خاتمے سے دو دن قبل سامنے آیا ہے جس کے تحت ایران کو جوہری معاملات پر چھ عالمی طاقتوں کی پیشکش کا باقاعدہ جواب دینا ہے۔ چین، روس، امریکہ، برطانیہ، فرانس اور جرمنی نے مشترکہ طور پر ایران کو جوہری پروگرام روکنے کے بدلے میں مراعات کی پیشکش کی تھی۔ تاہم ایران کہتا آیا ہے کہ وہ جوہری توانائی پیدا کرنے کا قانونی حق استعمال کرتا رہے گا۔ یاد رہے کہ ایران افزودگی نہ روکنے کی صورت میں پابندیاں عائد کرنے کی قرارداد کو پہلے ہی غیر قانونی قرار دے چکا ہے اور اس کا کہنا ہے کہ اگر پابندیاں لگائی گئیں تو اس سے مغرب کو زیادہ دشواریوں کا سامنا کرنا پڑے گا کیونکہ اس سے تیل کی قیمتیں بڑھ جائیں گی جس کا اثر موسمِ سرما کے دوران عام لوگوں پر پڑے گا۔ جوہری معاملات پر مذاکرات کے لیئے ایران کے اعلیٰ ترین اہلکار علی لاریجانی نے بھی کہا تھا کہ مغربی ممالک ایسے اقدام نہ کریں جن کے نتیجے میں ایران کو جوہری تنصیبات کے عالمی معائنہ کاروں کی رسائی محدود کرنی پڑے۔ | اسی بارے میں جوہری پروگرام نہیں رکےگا: ایران06 August, 2006 | آس پاس ایران کے جوہری ایندھن کی بحث02 August, 2006 | آس پاس اقوام متحدہ: ایران کے لیئے ڈیڈلائن31 July, 2006 | آس پاس جوہری تجاویز رد کرسکتے ہیں: ایران30 July, 2006 | آس پاس تہران کو ڈیڈ لائن دینے پر اتفاق29 July, 2006 | آس پاس ایرانی رویہ مثبت ہے: صدر پوتین15 June, 2006 | آس پاس | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||