البرادی نوبل انعام وصول کریں گے | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
بین الاقوامی ایٹمی توانائی ایجنسی اور اس کے ڈائریکٹر جنرل محمد البرادی ہفتہ کے روز اوسلو میں نوبل انعام وصول کریں گے۔ ایجنسی اور اس کے سربراہ کوایٹمی اسلحہ کے پھیلاؤ کی روک تھام کے لیے کی گئی کوششوں کے اعتراف میں مشترکہ طور پر یہ انعام دیا جا رہا ہے۔ اس انعام میں ایک انعامی سند، سونے کا تمغہ اور تقریباً سات لاکھ پاؤنڈ کی انعامی رقم شامل ہے جسے ایجنسی اور اس کے سربراہ کے درمیان تقسیم کیا جائے گا۔ البرادی کا کہنا ہے کہ اس انعامی رقم سے وہ اپنے ملک مصر میں یتیم بچوں کی مدد کریں گے۔ یہ انعام اس وقت دیا جا رہا ہے جب ایجنسی اور اس کے سربراہ ایران کے ایٹمی معاملے میں الجھے ہوئے ہیں۔ محمد البرادی نے بی بی سی سے بات کرتے ہوئے کہا ہے کہ ایران کو ایجنسی سے تعاون کرنے کے لیے ابھی تین ماہ کی مزید مہلت دینی چاہیے۔ ان کا کہنا ہے کہ اقوام متحدہ کی جانب سے پابندیاں ایران پر زیادہ اثر نہیں ڈال سکیں گی۔ انہوں نے کہا ’یہ عمل سست ہو سکتا ہے، اس سے جھنجھلاہٹ بھی ہو سکتی ہے لیکن سفارت کاری اور تفتیش ہی اس کا صحیح راستہ ہے‘۔ انہوں نے مزید کہا کہ ’اگر ہم ایک بند گلی میں پہنچ جاتے ہیں، اگر ہمیں یہ پتہ چلتا ہے کہ ایران تعاون نہیں کر رہا ہے، پھر ہمیں ایک فوری خطرے کا سامنا ہو گا اور سارا کھیل بدل جائے گا‘۔ البرادی نے اوسلو میں اخبار نویسوں سے بات چیت کرتے ہوئے بتایا کہ ’اس انعام سے ایجنسی پر لوگوں کے اعتماد میں اضافہ ہو گا، اس سے ایجنسی کی اخلاقی قوت بھی بڑھے گی اور اس کے متعلقہ مسائل پر ایجنسی کی آواز زیادہ لوگوں کو سنائی دے گی‘۔ ایٹمی توانائی ایجنسی کے بورڈ آف گورنرز کے سربراہ یوکیا امانو کا کہنا ہے کہ ’بدقسمتی سے ایٹمی ہتھیار اب بھی موجود ہیں اور ان کے پھیلنے کا خدشہ ہے۔ اس لیے ہمیں ان کے پھیلاؤ کو روکنے کے لیے زیادہ محنت کرنا ہو گی‘۔ یہ انعام ایجنسی کی ایٹمی اسلحہ کے عدم پھیلاؤ کی کوششوں کے اعتراف میں دیا جا رہا ہے۔ یہ انعام ہیرو شیما اور ناگاساکی پر ایٹم بم گرائے جانے کے ساٹھویں سال میں دیا جا رہا ہے۔ ایجنسی کا کہنا ہے کہ ایٹمی ہتھیاروں کی وجہ سے موجود دنیا کی پریشانی میں اضافہ ہو رہا ہے۔ جس وقت اس انعام کا اعلان کیا گیا ہے اس وقت ایٹمی اسلحہ کا خطرہ بڑھ رہا ہے اور ایجنسی کی کوششوں کی اہمیت بہت بڑھ گئی ہے۔ امن کا نوبل انعام اوسلو شہر میں دیا جا رہا ہے جب کہ ادب، طب، طبعیات، کیمیا اور معاشیات کے نوبل انعامات سٹاک ہوم میں دیے جائیں گے۔ |
اسی بارے میں یو این قرارداد غیرقانونی: ایران 25 September, 2005 | آس پاس ’معاملہ سلامتی کونسل مت بھیجیں‘20 September, 2005 | آس پاس ایرانی جوہری پروگرام پر سوالات03 September, 2005 | آس پاس ایران پر امریکہ کو جرمنی کا انتباہ13 August, 2005 | آس پاس محمد البرادی ہی سربراہ رہیں گے10 June, 2005 | آس پاس | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||