یو این قرارداد غیرقانونی: ایران | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
ایران کے ایٹمی پروگرام کے بارے میں اقوام متحدہ کے ایٹمی توانائی کے ادارے آئی اے ای اے کی قرارداد کو ایرانی حکومت نے غیرقانونی قرار دیا ہے۔ سنیچر کو منظور کی جانے والی اس قرارداد میں ایران کے ایٹمی پروگرام کا معاملہ سکیورٹی کونسل کو سپرد کرنے کو کہا گیا ہے۔ سکیورٹی کونسل میں ایران کے ایٹمی پروگرام کا معاملہ لے جانے پر ایران کے خلاف پابندیاں عائد کی جاسکتی ہیں۔ ایران کے وزیر خارجہ منوشہر متقی نے کہا کہ اس قرارداد سے ثابت ہوگیا ہے کہ برطانیہ، فرانس اور جرمنی امریکہ کے اشارے پر کام کررہے ہیں۔ ان کا کہنا تھا: ’تینوں یورپی ممالک نے اسی خاکے پر عمل کیا جس کی ترتیب امریکہ نے پہلے سے تعین کررکھی ہے۔‘ وزیرخارجہ متقی نے اس قرارداد کو ’سیاسی، غیرقانونی اور غیرمنتقی‘ قرار دیا۔ ایران کا اصرار ہے کہ اس کا ایٹمی پروگرام پرامن مقاصد کے لئے ہے، نہ کہ ایٹمی ہتھیار بنانے کے لئے جیسا کہ امریکہ کہتا رہا ہے۔ امریکی انڈر سیکریٹری نکلس برنس نے کہا کہ قرارداد پر ووٹنگ ’صبر آزما طویل لائحۂ عمل‘ کی ایک کڑی ہے۔ خبررساں ایجنسی اے پی کے مطابق، برنس نے کہا: ’اس سوال پر یہ ایران کو تنہا کرے گا۔ اس کا مقصد ایران پر بین الاقوامی دباؤ بڑھانا ہے۔‘ برطانوی وزیر خارجہ نے قرارداد کا خیرمقدم کیا۔ وزیر خارجہ جیک اسٹرا نے ایک بیان میں کہا: ’قرارداد کی حقیقت اور جس پیمانے پر اس کے حق میں ووٹ پڑے دونوں اہم ہیں، ایٹمی ہتھیاروں کے پھیلاؤ کو روکنے میں۔‘ قرارداد کے متن میں اس بات پر سوال اٹھایا گیا ہے کہ ایران کا ایٹمی پروگرام صرف توانائی کے حصول کے لئے ہے۔ آئی اے ای اے کے سربراہ محمد البرادئی نے کہا کہ اس معاملے پر ابھی بھی سفارتکاری کے لئے جگہ ہے۔ |
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||