BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
آر ایس ایس کیا ہے
آر ایس ایس کیا ہے
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: Monday, 30 April, 2007, 02:23 GMT 07:23 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
ایران سے مذاکرات ناممکن نہیں: رائس
ممکنہ بات چیت صرف عراق کے موضوع پر: رائس
امریکی وزیر خارجہ کونڈولیزا رائس کا کہنا ہے کہ وہ اس بات سے انکار نہیں کرتیں کہ عراق میں سکیورٹی کے موضوع پر اجلاس کے دوران وہ اپنے ایرانی ہم منصب سے ملاقات نہیں کریں گی۔

آئندہ ہفتے مصر میں ہونے والے عراقی سکیورٹی کے امور سے متعلق اس اجلاس میں عراق، اس کے پڑوسی ممالک اور دیگر بڑی طاقتوں کے رہنما شامل ہوں گے۔

رائس نے کہا کہ ان کے ایرانی ہم منصب منوچہر متقی کے ساتھ ہونے والی ممکنہ میٹنگ میں عراق ہی گفتگو کا واحد موضوع ہوگا۔ امریکہ ایران پر الزام لگاتا رہا ہے کہ وہ عراق میں مزاحمت کاروں کی مدد کررہا ہے۔ ایران نے یہ الزام مسترد کردیا ہے۔

وزیر خارجہ رائس کے بیان سے یہ بات خارج از امکان ہے کہ وہ مصر میں ایران کے متنازعہ ایٹمی پروگرام کے بارے میں کوئی مذاکرات کریں گی۔

امریکہ اور ایران کے درمیان سفارتی تعلقات نہیں ہیں لیکن گزشتہ مارچ میں عراق سکیورٹی کانفرنس کے دوران دونوں ملکوں کے سفارتکاروں نے ملاقات کی تھی۔

 یہ میٹنگ امریکہ اور ایران سے متعلق نہیں ہے۔یہ میٹنگ عراق اور عراق کے پڑوسیوں اور دلچسپی رکھنے والے فریقین کے بارے میں ہے کہ وہ عراق کے حالات میں استحکام لانے کے لیے کیا کرسکتے ہیں۔
کونڈولیزا رائس
کونڈولیزا رائس کا کہنا ہے کہ ایران کے ساتھ کوئی ’ملاقات‘ عراق کے سکیورٹی حالات کے بارے میں بات چیت کا موقع ہوگی، نہ کہ ایران اور امریکہ کے تعلقات کے بارے میں۔

مصر میں ہونے والے اجلاس کے بارے میں انہوں نے اے بی سی ٹیلی ویژن کو بتایا: ’یہ میٹنگ امریکہ اور ایران سے متعلق نہیں ہے۔‘ ان کا کہنا تھا: ’یہ میٹنگ عراق اور عراق کے پڑوسیوں اور دلچسپی رکھنے والے فریقین کے بارے میں ہے کہ وہ عراق کے حالات میں استحکام لانے کے لیے کیا کرسکتے ہیں۔‘

ایرانی امور سے متعلق بی بی سی کی نامہ نگار کا کہنا ہے کہ مصر میں امریکہ اور ایران کی ’ملاقات‘ اگر ہوگئی تو یہ ایک اہم پیش رفت ہوگی اور اگر بات چیت ٹھیک رہی تو مستقبل میں وسیع معاملات پر بھی بات چیت ممکن ہوجائے گی۔

سن 1979 کے اسلامی انقلاب سے اب تک امریکہ اور ایران کے دوران سفارتی تعلقات منقطع ہیں۔

گزشتہ اتوار کو ایران نے تصدیق کی کہ تین سے چار مئی کو شرم الشیخ میں ہونے والے عراق سکیورٹی اجلاس میں وہ شریک ہوگا۔ تہران میں بی بی سی کی نامہ نگار فرانسِس ہریسن کا کہنا ہے کہ ایران مصر کے اجلاس میں شرکت سے ہچکچا رہا تھا کہ کہیں امریکہ سے ملاقات نہ ہو۔

بی بی سی کی نامہ نگار کے مطابق ایران اس لیے بھی ناخوش تھا کہ اس اجلاس میں عراق کے پڑوسی ممالک کے علاوہ دیگر عرب ممالک اور اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کے مستقل اراکین کو بھی مدعو کیا گیا ہے۔

عراقی وزیر خارجہ ہوشیار زیباری نے اس امکان کا خیرمقدم کیا ہے کہ مصر میں ایران اور امریکہ شاید ملاقات کرلیں۔ زیباری کا کہنا تھا: ’میں سمجھتا ہوں کہ یہ اہم ہے، یہ بڑی پیش رفت ہوگی اور کشیدگی میں کمی کا عراق کے حالات پر مثبت اثر ہوگا۔‘

زلمے خلیلزادزلمے خلیل زاد
اقوام متحدہ میں نئے امریکی سفیر؟
عراقعراق، انسانی بحران
تشویش ناک ہے۔اقوام متحدہ
دھماکے سے متاثرہ بچیبغداد میں ہلاکتیں
عراق میں تشدد کا ایک بد ترین دِن
شیعہ رہنما مقتدٰی الصدرمقتدٰی کی’روانگی‘
مہدی ملیشیا کے رہنما ’ایران چلے گئے‘
احمدی نژاد’برطانوی اہلکار رہا‘
کیا یہ فیصلہ صرف صدر احمدی نژاد کا تھا؟
عراق میں امریکی فوجیعراق میں نیامنصوبہ
صدر بش کی نئی پالیسی پرعالمی رد عمل
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد