ایران سے مذاکرات ناممکن نہیں: رائس | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
امریکی وزیر خارجہ کونڈولیزا رائس کا کہنا ہے کہ وہ اس بات سے انکار نہیں کرتیں کہ عراق میں سکیورٹی کے موضوع پر اجلاس کے دوران وہ اپنے ایرانی ہم منصب سے ملاقات نہیں کریں گی۔ آئندہ ہفتے مصر میں ہونے والے عراقی سکیورٹی کے امور سے متعلق اس اجلاس میں عراق، اس کے پڑوسی ممالک اور دیگر بڑی طاقتوں کے رہنما شامل ہوں گے۔ رائس نے کہا کہ ان کے ایرانی ہم منصب منوچہر متقی کے ساتھ ہونے والی ممکنہ میٹنگ میں عراق ہی گفتگو کا واحد موضوع ہوگا۔ امریکہ ایران پر الزام لگاتا رہا ہے کہ وہ عراق میں مزاحمت کاروں کی مدد کررہا ہے۔ ایران نے یہ الزام مسترد کردیا ہے۔ وزیر خارجہ رائس کے بیان سے یہ بات خارج از امکان ہے کہ وہ مصر میں ایران کے متنازعہ ایٹمی پروگرام کے بارے میں کوئی مذاکرات کریں گی۔ امریکہ اور ایران کے درمیان سفارتی تعلقات نہیں ہیں لیکن گزشتہ مارچ میں عراق سکیورٹی کانفرنس کے دوران دونوں ملکوں کے سفارتکاروں نے ملاقات کی تھی۔ مصر میں ہونے والے اجلاس کے بارے میں انہوں نے اے بی سی ٹیلی ویژن کو بتایا: ’یہ میٹنگ امریکہ اور ایران سے متعلق نہیں ہے۔‘ ان کا کہنا تھا: ’یہ میٹنگ عراق اور عراق کے پڑوسیوں اور دلچسپی رکھنے والے فریقین کے بارے میں ہے کہ وہ عراق کے حالات میں استحکام لانے کے لیے کیا کرسکتے ہیں۔‘ ایرانی امور سے متعلق بی بی سی کی نامہ نگار کا کہنا ہے کہ مصر میں امریکہ اور ایران کی ’ملاقات‘ اگر ہوگئی تو یہ ایک اہم پیش رفت ہوگی اور اگر بات چیت ٹھیک رہی تو مستقبل میں وسیع معاملات پر بھی بات چیت ممکن ہوجائے گی۔ سن 1979 کے اسلامی انقلاب سے اب تک امریکہ اور ایران کے دوران سفارتی تعلقات منقطع ہیں۔ گزشتہ اتوار کو ایران نے تصدیق کی کہ تین سے چار مئی کو شرم الشیخ میں ہونے والے عراق سکیورٹی اجلاس میں وہ شریک ہوگا۔ تہران میں بی بی سی کی نامہ نگار فرانسِس ہریسن کا کہنا ہے کہ ایران مصر کے اجلاس میں شرکت سے ہچکچا رہا تھا کہ کہیں امریکہ سے ملاقات نہ ہو۔ بی بی سی کی نامہ نگار کے مطابق ایران اس لیے بھی ناخوش تھا کہ اس اجلاس میں عراق کے پڑوسی ممالک کے علاوہ دیگر عرب ممالک اور اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کے مستقل اراکین کو بھی مدعو کیا گیا ہے۔ عراقی وزیر خارجہ ہوشیار زیباری نے اس امکان کا خیرمقدم کیا ہے کہ مصر میں ایران اور امریکہ شاید ملاقات کرلیں۔ زیباری کا کہنا تھا: ’میں سمجھتا ہوں کہ یہ اہم ہے، یہ بڑی پیش رفت ہوگی اور کشیدگی میں کمی کا عراق کے حالات پر مثبت اثر ہوگا۔‘ |
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||