BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
آر ایس ایس کیا ہے
آر ایس ایس کیا ہے
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: Wednesday, 25 April, 2007, 16:08 GMT 21:08 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
عراق:اقوام متحدہ کی تنقید
عراق
عراق میں ہزاروں افراد کو فرد جرم عائد کیے بغیر حراست میں رکھا جاتا ہے
اقوام متحدہ نے گزشتہ دو مہینے سے بغداد اور اس کےگردونواح میں نئے سکیورٹی پلان شروع کرنے کے بعد سے حقوق انسانی کی حالت پر شدید تنقید کی ہے۔

عراق کے لیےاقوام متحدہ کے مشن نے کہا ہے کہ عراقی حکام، ان تین ہزار قیدیوں کو جنہیں مختلف آپریشنز کے دوران حراست میں لیا گیا ہے بنیادی انسانی حقوق فراہم کرنے میں ناکام رہی ہے۔

رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ اس وقت تقریباً چالیس لاکھ عراقیوں کی زندگی خوراک کی کمی کی وجہ سے خطرے سے دوچار ہے۔

اقوام متحدہ کے مشن نے عراقی حکومت سے یہ بھی مطالبہ کیا ہے کہ انہیں شہری ہلاکتوں کے فائلوں تک رسائی فراہم کی جائے۔

عراقی حکام نے اقوام متحدہ کی پچھلی رپورٹ کے اعداد شمار پر بھی اعتراض کیا تھا۔

اقوام متحدہ نے جنوری میں اپنی رپورٹ میں کہا تھا کہ سن دو ہزار چھ میں تقریباً ساڑھےچونتیس ہزار شہری ہلاک اور چھتیس ہزار زخمی ہوئے تھے۔ یہ عراقی حکام کے جاری کردہ اعداد و شمار سے کہیں زیادہ تعداد ہے۔

 مجموعی طور پرعراقی اور امریکی حکومت کے تحت چلنے والے قید خانوں میں سنتیس ہزار سے زائد افراد مقید ہیں، جن میں زیادہ تر پر کوئی فرد جرم عائد نہیں کی گئی اور نہ ہی انہیں عدالتی کارروائی کے لیے بھیجا گیا ہے۔
اقوام متحدہ
اقوام متحدہ نے کہا تھا کہ وہ اعداد شمار عراقی حکومت کی وزارت نے مہیا کیے تھے۔

اقوام متحدہ کی رپورٹ یکم جنوری سے اکتیس مارچ سن دو ہزار سات تک کے عرصہ پر محیط ہے۔ رپورٹ کے مطابق تقریباً تین ہزار افراد کوفروری کے وسط میں بغداد میں نئے سکیورٹی پلان متعارف کیے جانے کے بعد سے چھاپوں میں گرفتار کیا گیا ہے۔ رپورٹ میں اس بات پر بھی تشویش اظہار کیا گیا ہے کہ گرفتار افراد کوان کے جائز حقوق نہیں دیے جا رہے۔

مجموعی طور پرعراقی اور امریکی حکومت کے تحت چلنے والے قید خانوں میں سنتیس ہزار سے زائد افراد مقید ہیں، جن میں زیادہ تر پر کوئی فرد جرم عائد نہیں کی گئی اور نہ ہی انہیں عدالتی کارروائی کے لیے بھیجا گیا ہے۔

اس رپورٹ میں عراق میں حالات کو تیزی سی بگڑتا ہوا انسانی بحران قرار دیا گیا ہے۔اور یہ بھی کہا گیا ہے کہ عام زندگی میں تعمیر نو کے کاموں پر کروڑوں ڈالر خرچ کرنے کے باوجود عام لوگوں کی حالت زندگی بگڑتی جا رہی ہے۔

ایک اندازے کے مطابق چون فیصد عراقیوں کی روزانہ آمدن ایک امریکی ڈالر سے بھی کم ہے اور بے روز گاری کی شرح ساٹھ فیصد سے بڑھ چکی ہے۔

رپورٹ میں آزادی اظہار کی بگڑتی ہوئی صورتحال جو میڈیا اور صحافیوں پر پر اثرانداز ہو رہی ہے اور مذہبی ونسلی گروہوں اور ادیبوں کو پورے عراق میں مذہبی انتہا پسندوں اور مسلح گروہوں کے ہاتھوں مسلسل نشانہ بننے کا بھی تذکرہ کیا گیا ہے۔

امریکی فوجیعراق پالیسی اور ووٹر
کیا صدر بُش مزید امریکی فوجی بھیجیں گے؟
پناہ گزین بچہ بڑھتے ہوئے مصائب
عراقی پناہ گزین جائیں تو کہاں جائیں؟
امریکی فوجیتین سال میں 3000
عراق میں اب تک 3000 امریکی فوجی ہلاک
ہجرت پر مجبور
ہر ماہ پچاس ہزار عراقی ہجرت پر مجبور
اسی بارے میں
’عراق پالیسی ناقص ہے‘
11 April, 2007 | آس پاس
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد