عراق: موت کی سزا، ایمنٹسی کی تنقید | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
انسانی حقوق کی تنظیم ایمنسٹی انٹرنیشنل کا کہنا ہے کہ سزائے موت دیے جانے کے حوالے سے عراق دنیا میں چوتھے نمبر پر آ گیا ہے۔ رپورٹ کے مطابق سنہ 2004 کے وسط سے لے کر اب تک عراق میں دو سو ستر افراد کو موت کی سزا سنائی گئی اور ان افراد میں سے ایک سو کی سزا پر عملدرآمد بھی ہو چکا ہے۔ ایمنسٹی کی رپورٹ کے مطابق عراق میں صرف گزشتہ برس پینسٹھ افراد کو پھانسی دی گئی جن میں دو عورتیں بھی شامل تھیں۔ رپورٹ میں یہ بھی کہا گیا ہے کہ اس وقت صرف چین، ایران اور پاکستان سزائے موت دینے کے حوالے سے عراق سے آگے ہیں۔ عراق میں 2003 میں صدام حکومت کے خاتمے کے بعد سزائے موت کو معطل کر دیا گیا تھا تاہم بعد ازاں بڑھتے ہوئے تشدد اور مزاحمت کے نتیجے میں اس سزا کو بحال کیا گیا تھا۔ ایمنسٹی انٹرنیشنل کا کہنا ہے کہ عراق میں سزائے موت کے دوبارہ آغاز کے باوجود سکیورٹی صورتحال ابتر ہی ہوئی ہے۔ رپورٹ میں یہ بھی کہا گیا ہے کہ عراق میں سزائے موت پانے والے متعدد افراد کو غیرمنصفانہ مقدمات کے بعد پھانسی چڑھایا گیا جبکہ سزائے موت پانے والے متعدد افراد اپنے اقبالی بیانات سے بھی مکر گئے تھے اور ان کا کہنا تھا کہ ان سے یہ بیانات تشدد کے نتیجے میں زبردستی لیے گئے ہیں۔ رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ یہ واضح بات ہے کہ سزائے موت کو انسانی حقوق کی پامالی اور ذاتی انتقام کے لیے استعمال کیا گیا ہے۔ | اسی بارے میں صدام حسین کو پھانسی دے دی گئی30 December, 2006 | آس پاس صدام کے ساتھیوں کو بھی پھانسی15 January, 2007 | آس پاس صدام: ساتھیوں کو پھانسی کی مذمت16 January, 2007 | آس پاس عراق: ایک سال میں 34 ہزار ہلاک16 January, 2007 | آس پاس پھانسی مت دیں: اقوام متحدہ 09 February, 2007 | آس پاس طحہٰ یسین رمضان، سزائےموت برقرار15 March, 2007 | آس پاس عراقیوں میں ’بڑھتی ہوئی نااُمیدی‘19 March, 2007 | آس پاس عراق: سابق نائب صدر کو پھانسی20 March, 2007 | آس پاس | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||