BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
آر ایس ایس کیا ہے
آر ایس ایس کیا ہے
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: Friday, 20 April, 2007, 03:04 GMT 08:04 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
عراق: موت کی سزا، ایمنٹسی کی تنقید
عراق
سزائے موت کے دوبارہ نفاذ سےعراق میں تشدد کم کرنے میں مدد نہیں ملی
انسانی حقوق کی تنظیم ایمنسٹی انٹرنیشنل کا کہنا ہے کہ سزائے موت دیے جانے کے حوالے سے عراق دنیا میں چوتھے نمبر پر آ گیا ہے۔

رپورٹ کے مطابق سنہ 2004 کے وسط سے لے کر اب تک عراق میں دو سو ستر افراد کو موت کی سزا سنائی گئی اور ان افراد میں سے ایک سو کی سزا پر عملدرآمد بھی ہو چکا ہے۔

ایمنسٹی کی رپورٹ کے مطابق عراق میں صرف گزشتہ برس پینسٹھ افراد کو پھانسی دی گئی جن میں دو عورتیں بھی شامل تھیں۔ رپورٹ میں یہ بھی کہا گیا ہے کہ اس وقت صرف چین، ایران اور پاکستان سزائے موت دینے کے حوالے سے عراق سے آگے ہیں۔

عراق میں 2003 میں صدام حکومت کے خاتمے کے بعد سزائے موت کو معطل کر دیا گیا تھا تاہم بعد ازاں بڑھتے ہوئے تشدد اور مزاحمت کے نتیجے میں اس سزا کو بحال کیا گیا تھا۔

ایمنسٹی انٹرنیشنل کا کہنا ہے کہ عراق میں سزائے موت کے دوبارہ آغاز کے باوجود سکیورٹی صورتحال ابتر ہی ہوئی ہے۔ رپورٹ میں یہ بھی کہا گیا ہے کہ عراق میں سزائے موت پانے والے متعدد افراد کو غیرمنصفانہ مقدمات کے بعد پھانسی چڑھایا گیا جبکہ سزائے موت پانے والے متعدد افراد اپنے اقبالی بیانات سے بھی مکر گئے تھے اور ان کا کہنا تھا کہ ان سے یہ بیانات تشدد کے نتیجے میں زبردستی لیے گئے ہیں۔

رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ یہ واضح بات ہے کہ سزائے موت کو انسانی حقوق کی پامالی اور ذاتی انتقام کے لیے استعمال کیا گیا ہے۔

اسی بارے میں
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد