صدام: ساتھیوں کو پھانسی کی مذمت | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
اقوام متحدہ اور یورپی یونین کے رہنماؤں نے بغداد میں صدام دور کے دو سابق اہلکاروں کو پھانسی دیے جانے کی مذمت کی ہے۔ اقوام متحدہ کے جنرل سیکرٹری بان کی مون کا کہنا تھا کہ انہیں معزول عراقی صدر صدام حسین کے سوتیلے بھائی برزان تکریتی اور اس دور کی ’انقلابی عدالت‘ کے سربراہ عود البندر کو پھانسی دیے جانے پر افسوس ہے۔ یورپی یونین کے ایک اہلکار کا کہنا تھا کہ پھانسیوں نے عراق میں جاری مصالحتی عمل کو نقصان پہنچایا ہے۔ امریکہ اور برطانیہ نے پھانسی دیے جانے کے عمل پر تشویش کا اظہار کیا ہے۔ برزان تکریتی اور عود البندر کو انسانیت کے خلاف جرائم کے الزامات کے تحت بغداد میں پھانسی دی گئی۔ پھانسی دیے جانے سے برزان تکریتی کا سر تن سے جدا ہو گیا تاہم عراقی حکام کا کہنا تھا کہ یہ محض ایک حادثہ تھا۔ صدام کے سوتیلے بھائی برزان تکریتی عراق کی خفیہ ایجنسی کے چیف جبکہ عود البندر ’انقلابی عدالت‘ کے سربراہ تھے۔ ان دونوں افراد کو بغداد کی ایک عدالت نے گزشتہ سال 1982 میں 148 شیعہ افراد کی ہلاکت پر صدام کے ساتھ پھانسی کی سزا سنائی تھی۔ انہیں صدام حسین کو پھانسی دیے جانے کے دو ہفتوں کے بعد پھانسی دی گئی ہے۔
صدام کو پھانسی دیے جانے کے عمل کی غیرسرکاری موبائل ویڈیو پر عالمی سطح پر خدشات کا اظہار کیا گیا تھا جس میں پھانسی دینے والے افراد کی طرف سے ان پر طعنے کستے دکھایا گیا ہے۔ اقوام متحدہ نے پیر کو ان دونوں افراد کو پھانسی دیے جانے کے اعلان کی شدید مذمت کی تھی۔ اقوام متحدہ کی ترجمان کا کہنا تھا کہ مسٹر بان کی مون نے اپنی اور انسانی حقوق کی کمشنر کی جانب سے ان دنوں افراد کو پھانسی نہ دینے جانے کی درخواستوں کے باوجود پھانسی دیے جانے پر افسوس کا اظہار کیا ہے۔ انسانی حقوق پر اقوام متحدہ کی ہائی کمشنر لوئس آربر نے بھی پھانسیوں کی مذمت کی ہے۔ عراق کی حکومت کے ترجمان نے صدام دور کے دونوں سابق اہلکاروں کو پھانسی دیے جانے کا دفاع کرتے ہوئے کہا ہے کہ دونوں افراد پر پھانسی سے قبل نہ تو طعنےکسے گئے اور نہ ہی ان کی بے عزتی کی گئی۔ انہیں قانون کے مطابق پھانسی دی گئی ہے اور برزان کا سر تن سے جدا ہوجانا محض حادثہ تھا۔ اس سے قبل عراق کے صدر جلال طالبانی نے سابق عراقی رہنما صدام حسین کے دو ساتھیوں کو پھانسی دینے کے حکم پر عمل درآمد کو مؤخر کرنے کا مطالبہ کیا تھا۔ عراقی صدر مجرموں کی سزا کو بدلنے یا ان میں تاخیر کا اختیار نہیں رکھتے۔ صدا م حسین کی متنازعہ پھانسی کا حوالہ دیتے ہوئے صدر طالبانی نے کہا تھا کہ موجودہ حالات پھانسی کی سزا کے لیے سازگار نہیں ہیں لیکن عراقی حکومت کے ترجمان کا کہنا تھا کہ مجرموں کے ’ڈیتھ وارنٹ‘ پر دستخط ہو چکے تھے اور اب اس پر عملدرآمد کر دیا گیا ہے۔ |
اسی بارے میں صدام کے ساتھیوں کو بھی پھانسی15 January, 2007 | آس پاس صدام: ساتھیوں کی پھانسی بھی فلم بند16 January, 2007 | آس پاس مزید پھانسیاں نہ دیں، اقوامِ متحدہ04 January, 2007 | آس پاس پھانسیاں ہوں گی: عراقی حکومت 04 January, 2007 | آس پاس پھانسیاں مؤخر کریں: جلال طالبانی10 January, 2007 | آس پاس ’پھانسیاں اسی ہفتے ہوں گی‘07 January, 2007 | آس پاس پھانسی داخلی معاملہ: المالکی06 January, 2007 | آس پاس | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||