BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
آر ایس ایس کیا ہے
آر ایس ایس کیا ہے
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: Tuesday, 16 January, 2007, 10:35 GMT 15:35 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
صدام: ساتھیوں کو پھانسی کی مذمت
برزان تکریتی اور عود البندر کو انسانیت کے خلاف جرائم کے الزامات کے تحت پھانسی دی گئی
اقوام متحدہ اور یورپی یونین کے رہنماؤں نے بغداد میں صدام دور کے دو سابق اہلکاروں کو پھانسی دیے جانے کی مذمت کی ہے۔

اقوام متحدہ کے جنرل سیکرٹری بان کی مون کا کہنا تھا کہ انہیں معزول عراقی صدر صدام حسین کے سوتیلے بھائی برزان تکریتی اور اس دور کی ’انقلابی عدالت‘ کے سربراہ عود البندر کو پھانسی دیے جانے پر افسوس ہے۔

یورپی یونین کے ایک اہلکار کا کہنا تھا کہ پھانسیوں نے عراق میں جاری مصالحتی عمل کو نقصان پہنچایا ہے۔ امریکہ اور برطانیہ نے پھانسی دیے جانے کے عمل پر تشویش کا اظہار کیا ہے۔

برزان تکریتی اور عود البندر کو انسانیت کے خلاف جرائم کے الزامات کے تحت بغداد میں پھانسی دی گئی۔ پھانسی دیے جانے سے برزان تکریتی کا سر تن سے جدا ہو گیا تاہم عراقی حکام کا کہنا تھا کہ یہ محض ایک حادثہ تھا۔

صدام کے سوتیلے بھائی برزان تکریتی عراق کی خفیہ ایجنسی کے چیف جبکہ عود البندر ’انقلابی عدالت‘ کے سربراہ تھے۔

ان دونوں افراد کو بغداد کی ایک عدالت نے گزشتہ سال 1982 میں 148 شیعہ افراد کی ہلاکت پر صدام کے ساتھ پھانسی کی سزا سنائی تھی۔ انہیں صدام حسین کو پھانسی دیے جانے کے دو ہفتوں کے بعد پھانسی دی گئی ہے۔

موبائل ویڈیو میں صدام پر طعنے کستے دکھایا گیا ہے

صدام کو پھانسی دیے جانے کے عمل کی غیرسرکاری موبائل ویڈیو پر عالمی سطح پر خدشات کا اظہار کیا گیا تھا جس میں پھانسی دینے والے افراد کی طرف سے ان پر طعنے کستے دکھایا گیا ہے۔

اقوام متحدہ نے پیر کو ان دونوں افراد کو پھانسی دیے جانے کے اعلان کی شدید مذمت کی تھی۔ اقوام متحدہ کی ترجمان کا کہنا تھا کہ مسٹر بان کی مون نے اپنی اور انسانی حقوق کی کمشنر کی جانب سے ان دنوں افراد کو پھانسی نہ دینے جانے کی درخواستوں کے باوجود پھانسی دیے جانے پر افسوس کا اظہار کیا ہے۔

انسانی حقوق پر اقوام متحدہ کی ہائی کمشنر لوئس آربر نے بھی پھانسیوں کی مذمت کی ہے۔

عراق کی حکومت کے ترجمان نے صدام دور کے دونوں سابق اہلکاروں کو پھانسی دیے جانے کا دفاع کرتے ہوئے کہا ہے کہ دونوں افراد پر پھانسی سے قبل نہ تو طعنےکسے گئے اور نہ ہی ان کی بے عزتی کی گئی۔ انہیں قانون کے مطابق پھانسی دی گئی ہے اور برزان کا سر تن سے جدا ہوجانا محض حادثہ تھا۔

اس سے قبل عراق کے صدر جلال طالبانی نے سابق عراقی رہنما صدام حسین کے دو ساتھیوں کو پھانسی دینے کے حکم پر عمل درآمد کو مؤخر کرنے کا مطالبہ کیا تھا۔ عراقی صدر مجرموں کی سزا کو بدلنے یا ان میں تاخیر کا اختیار نہیں رکھتے۔

صدا م حسین کی متنازعہ پھانسی کا حوالہ دیتے ہوئے صدر طالبانی نے کہا تھا کہ موجودہ حالات پھانسی کی سزا کے لیے سازگار نہیں ہیں لیکن عراقی حکومت کے ترجمان کا کہنا تھا کہ مجرموں کے ’ڈیتھ وارنٹ‘ پر دستخط ہو چکے تھے اور اب اس پر عملدرآمد کر دیا گیا ہے۔

صدام شہید بن گئے
’پھانسی کے طریقے نے صدام کو شہید بنا دیا‘
مظاہرینصدام کی پھانسی
صدام حسین کی پھانسی پر عوامی ردِعمل
مبارکمبارک کا انتباہ
صدام کو پھانسی سے خونریزی بڑھے گی
اسی بارے میں
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد