’مزید پابندیوں کا وقت آگیا ہے‘ | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
امریکہ کا کہنا ہے کہ وہ ایران کی جانب سے یورینیم کی افزودگی معطل نہ کرنے پر اب مزید پابندیاں لگانے پر زور دے گا۔ امریکہ کی جانب سے یہ بیان اقوامِ متحدہ کے جوہری توانائی کے ادارے کی جانب سے اس رپورٹ کے بعد سامنے آیا ہے جس میں کہا گیا ہے کہ ایران سلامتی کونسل کے مطالبات کو رد کر رہا ہے اور نہ صرف وہ معائنہ کاروں کے کام میں رکاوٹ ڈال رہا ہے بلکہ یورینیم کی افزودگی کے عمل میں تیزی سے اضافہ بھی کر رہا ہے۔ اس رپورٹ پر تبصرہ کرتے ہوئے اقوام متحدہ میں امریکی سفارت کار زلمے خلیل زاد کا کہنا ہے کہ ایران پر دباؤ بڑھانے کا وقت آگیا ہے تاکہ وہ یورینیم کی افزودگی کے اپنے پروگرام کو روک دے۔ انہوں نے کہا’ وہ وقت آ پہنچا ہے کہ ایران پر مزید دباؤ ڈالا جائے تاکہ اس کے رویے میں تبدیلی لائی جا سکے‘۔ انہوں نے یہ بھی کہا کہ موجودہ پابندیوں سے کوئی فائدہ نہیں ہوا اور اب اس سلسلے میں مزید کارروائی کی ضرورت ہے۔ امریکہ اور برطانیہ دونوں ہی ایران کے خلاف نئی پابندیوں کا مطالبہ کر رہے ہیں۔وائٹ ہاؤس نے بھی آئی اے ای اے کی تازہ رپورٹ کو ایران کے جوہری توانائی کے تنازعہ سے متعلق کی جانے والی خلاف ورزیوں کی باقاعدہ فہرست قرار د یا ہے۔ اب بش انتظامیہ تہران پر مزید سخت بیرونی پابندیاں عائد کرنے کے اگلے قدم کی تیاریاں کر رہی ہے۔ اقوام متحدہ کی سکیورٹی کونسل پہلے ہی ایران پر دو مرتبہ پابندیاں عائد کر چکی ہے۔ بین الاقوامی برادری ایران پر جوہری پورگرام بند کرنے کے لیے مسلسل دباؤ ڈال رہی ہیں لیکن ایران ایسا کرنے پر آمادہ نہیں۔ ادھر مغربی سفارتکار یوروپی یونین مذاکرات کار ہاویئر سولانہ اور ایران کے علی لاری جانی کے درمیان مذاکرات میں کامیابی کی امید کر رہے ہیں۔لیکن مدعٰی یہی ہے کہ ایران سلامتی کونسل کے مطالبات کو پورا کرے یعنی یورینیم کی افزودگی کا پروگرام ترک کر دے یا پھر مزید پابندیوں کا سامنا کرے۔ لیکن یہ فیصلہ کرنا سلامتی کونسل کا کام ہے کہ اب کیا اقدام کیے جائیں۔امریکہ مسلسل ایران پر دباؤ ڈال کر یہ ثابت کرنے کی کوشش کر رہا ہے کہ ایران خفیہ طریقہ سے جوہری ہتھیار بنانے کی کوشش کر رہا ہے۔ لیکن ایران نے اس الزام کو مسترد کیا ہے۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ تازہ رپورٹ ایران پر نئی پابندیاں عائد کرنے کے راستے کھول سکتی ہے۔ایران کے رویہ پر بین الاقومی برادریوں نے تشویش تو ظاہر کی ہے لیکن ان میں سے ہر کوئی ایران پر مزید پابندیاں عائد کرنے پراتفاق نہیں کرتا ہے۔ آئی اے ای اے کے سربراہ محمد البرادعی نے ایران کو یورینیم کی محدود افزودگی کی اجازت دینے کی پیش کش کی تھی لیکن ایک امریکی سفارتکار نے یہ تجویز مسترد کر دی ۔ حالات اس طرف اشارہ کر رہے ہيں کہ امریکہ کو اقوام متحدہ کی سکیورٹی کونسل کے ممبران کو ایران پر مزید پابندیاں عائد کرنے کے لیے رضامند کرنے میں مشکلات کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے۔ | اسی بارے میں ایران پر مزید پابندیاں عائد24 March, 2007 | آس پاس ’ایران نے ڈیڈلائن پر عمل نہیں کیا‘22 February, 2007 | آس پاس اور کڑی پابندیوں کی امریکی کوشش22 February, 2007 | آس پاس ’اچھا آغاز مگر بات ختم نہیں ہوئی‘13 February, 2007 | آس پاس ’ایران کےمعاملےمیں مغرب ناکام رہا ہے‘15 May, 2007 | آس پاس البرادعی کا بیان ’مددگار‘ نہیں23 May, 2007 | آس پاس ایرانی مذاکرات کار موسویان گرفتار 05 May, 2007 | آس پاس ’ایران ابھی ابتدائی مراحل میں ہے‘ 13 April, 2007 | آس پاس | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||