’اچھا آغاز مگر بات ختم نہیں ہوئی‘ | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
امریکی وزیرِ خارجہ کونڈالیزا رائس نے چھ ملکی مذاکرات کے نتیجے میں شمالی کوریا کے جوہری پروگرام کے حوالے سے ہونے والے سمجھوتے کا خیر مقدم کیا ہے۔ امریکی وزیرِ خارجہ نے اس معاہدے کو ایک اچھا آغاز قرار دیا تاہم ان کا یہ بھی کہنا تھا کہ’ بات یہیں ختم نہیں ہوگئی ہے‘۔ انہوں نے کہا کہ’ اصل مقصد جزیرہ نما کوریا کی مکمل، قابلِ تصدیق اور دوبارہ نہ شروع ہونے والی ڈی نیوکلیئرائزیشن ہے اور یہ اس حوالے سے ایک اچھی ابتداء ہے‘۔ شمالی کوریا نے جوہری طور پر غیرمسلح ہونے کے حوالے سے پہلے قدم کے طور پر ایندھن کی صورت میں امداد کے عوض اپنا مرکزی جوہری ری ایکٹر بند کرنے پر اتفاق کیا ہے جبکہ جاپان اور امریکہ نے کہا ہے کہ وہ بہتر باہمی تعلقات کے لیے شمالی کوریا سے بات چیت بھی کریں گے۔ امریکی وزیرِ خارجہ نے اس خیال کو بھی رد کیا کہ اس ڈیل سے ایران جیسے ممالک یہ سمجھ سکتے ہیں کہ ’غلط طرزِ عمل‘ فائدہ مند ہو سکتا ہے بلکہ ان کا کہنا تھا کہ’ اس ڈیل کو ایران کے لیے یہ پیغام کیوں نہ سمجھا جائے کہ بین لاقوامی برادری اپنے وسائل سے فائدہ اٹھا سکتی ہے‘۔ یاد رہے کہ بیجنگ میں چھ ملکی مذاکرات کے ایک طویل دور کے بعد بالآخر شمالی کوریا نے اقتصادی امداد کے بدلے اپنا جوہری پروگرام ترک کرنے پر رضامندی ظاہر کی ہے۔ مذاکرات میں شریک چینی نمائندے وو داویئی کے مطابق شمالی کوریا آئندہ دو ماہ کے اندر یونگ بیون میں اپنا جوہری ری ایکٹر بند کر دے گا جس کے بدلے اسے پچاس ہزار میٹرک ٹن ایندھن کی کھیپ یا پھر اس کے مساوی اقتصادی امداد دی جائے گی جبکہ جوہری پروگرام مستقل بنیادوں پر ختم کرنے پر شمالی کوریا کو ایک ملین ٹن ایندھن بطور امداد دیا جائے گا۔ | اسی بارے میں نیوکلیئر پروگرام ترک کرنے پر راضی13 February, 2007 | آس پاس ’معاہدے سے پھرے تو پابندیاں‘13 February, 2007 | آس پاس جوہری مذاکرات جمود کا شکار11 February, 2007 | آس پاس جوہری پروگرام پر مفاہمت کا امکان19 January, 2007 | آس پاس | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||