نیوکلیئر پروگرام ترک کرنے پر راضی | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
بیجنگ میں چھ ملکی مذاکرات کے ایک طویل دور کے بعد بالآخر شمالی کوریا نے اقتصادی امداد کے بدلے اپنا جوہری پروگرام ترک کرنے پر رضامندی ظاہر کردی ہے۔ مذاکرات میں شریک چینی نمائندے وو داویئی کا کہنا تھا کہ شمالی کوریا اگلے ساٹھ روز کے دوران یانگ بیون میں اپنا جوہری ری ایکٹر بند کردے گا جس کے بدلے اسے 50000 میٹرک ٹن ایندھن کی کھیپ یا پھر اس کے مساوی اقتصادی امداد دی جائے گی۔ اپنا جوہری پروگرام مستقل بنیادوں پر ختم کرنے پر اسے ایک ملین ٹن ایندھن کی ایک اور کھیپ دی جائے گی۔ تاہم چھ ملکی مذاکرات کے ایک فریق جاپان نے کہا ہے کہ وہ اس وقت تک شمالی کوریا کو امداد فراہم نہیں کرے گا جب تک کہ شمالی کوریا اغوا کیے گئے جاپانی شہریوں کو رہا نہیں کرتا۔ شمالی کوریا نے تسلیم کیا ہے کہ اس نے 1970 اور 1980 کے عشروں میں کئی جاپانی شہریوں کو اغوا کیا تھا۔ جاپان کا خیال ہے کہ ان کے کئی شہری اب بھی وہاں مقید ہیں۔ بین الاقوامی معائنہ کار نیوکلیئر ری ایکٹر کے بند کیے جانے کے عمل کی نگرانی کریں گے۔ امریکہ اور جاپان نے بھی شمالی کوریا سے ’قریب تر تعلقات‘ کے لیے مذاکرات پر رضامندی ظاہر کردی ہے۔ تاہم شمالی کوریا کی جانب سے براہ راست معاہدہ طے کیے جانے پر کوئی سرکاری رد عمل اب تک سامنے نہیں آیا ہے۔ چھ ملکی مذاکرات میں امریکہ، چین، جاپان، روس اور شمالی و جنوبی کوریا شریک ہیں۔ چینی نمائندے کا کہنا ہے کہ مذاکرات کے اختتام پر اہم اتفاق رائے ہوگیا ہے۔ انہوں نے یہ بھی کہا کہ امریکہ شمالی کوریا کو ’دہشتگرد ممالک‘ کی فہرست سے خارج کرنے اور اس سے سفارتی تعلقات قائم کرنے پر تیار ہے۔ اس سے قبل امریکہ کے جوہری مذاکرات کار کا کہنا تھا کہ شمالی کوریا کے جوہری پروگرام کے حوالے سے جاری چھ ملکی مذاکرات کے دوران ایک عارضی سمجھوتے پر اتفاق ہوگیا ہے۔ گزشتہ جمعرات سے جاری مذاکرات کے حالیہ دور کا مقصد شمالی کوریا کو اس امر پر راضی کرنا تھا کہ وہ اپنا جوہری پروگرام ترک کر دے۔
چینی نمائندے نے مذاکرات کے ان آخری ادوار کو’ بے انتہا کشیدگی‘ کا حامل قرار دیا جبکہ جنوبی کوریا کے حکام کا کہنا تھا کہ ان ملاقاتوں میں مثبت اقدمات اٹھائے گئے ہیں اور کچھ کلیدی اختلافات کا حل بھی تلاش کر لیا گیا۔ ابتدا میں معلوم ہورہا تھا کہ یہ سمجھوتہ ممکن نہیں ہوگا کیونکہ رکن ممالک کے مطابق ان کے مطالبات کے بدلے شمالی کوریا توانائی کی جو امداد طلب کررہا تھا وہ بہت زیادہ تھی۔ تاہم پیر کی شام سے رکن ممالک نے آخری کوشش کے طور پر مسئلہ کے حل کے لیے کوششیں شروع کیں۔ شمالی کوریا کے جوہری پروگرام کے حوالے سے جاری مذاکرات میں آخری پیش رفت ستمبر 2005 میں ہوئی تھی جب امریکہ اور شمالی کوریا میں معاہدہ طے پایا تھا تاہم یہ معاہدہ عملدر آمد کے طریقۂ کار پر اتفاقِ رائے نہ ہونے کی وجہ سے ناکام ہوگیا تھا۔ | اسی بارے میں جوہری مذاکرات جمود کا شکار11 February, 2007 | آس پاس جوہری پروگرام پر مفاہمت کا امکان19 January, 2007 | آس پاس ’مزید عالمی دباؤ کا سامنا کرنا پڑےگا‘22 December, 2006 | آس پاس شمالی کوریا مذاکرات بے نتیجہ21 December, 2006 | آس پاس پابندیوں پر پہلی بار بات چیت 19 December, 2006 | آس پاس مذاکرات دوبارہ شروع18 December, 2006 | آس پاس ’اتوار کو مذاکرات کروں گا‘17 December, 2006 | آس پاس | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||