جوہری مذاکرات جمود کا شکار | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
شمالی کوریا کے جوہری پروگرام پر چھ ملکی مذاکرات میں شریک جاپانی نمائندے کے مطابق ایندھن کے حوالے سے شمالی کوریا کے’حد سے زیادہ‘ مطالبات مذاکرات کی کامیابی کی راہ میں رکاوٹ ہیں۔ چھ ملکی بات چیت اب چوتھے روز میں داخل ہو گئی ہے اور ان مذاکرات میں ایک ایسے معاہدے کے مسودے پر غور کیا جا رہا ہے جس کے تحت امداد کے بدلے شمالی کوریا اپنی جوہری تنصیبات بند کردے گا۔ بات چیت کے چوتھے دن کے آغاز سے قبل جاپانی نمائندے کینی چیرو ساسائی کا کہنا تھا کہ’ہمارے اور شمالی کوریا کے درمیان موجود خلیج خاصی وسیع ہے اور اسے پُر کرنے کا تمام تر دارومدار شمالی کوریا پر ہے‘۔ انہوں نے کہا’ اگرچہ ہم آج بات چیت کر رہے ہیں لیکن یہ ایسے حالات نہیں کہ ہم پرامید ہو سکیں۔ ایندھن کی امداد کے حوالے سے شمالی کوریا کی امیدیں بہت زیادہ ہیں اور جب تک شمالی کوریا اپنی امیدوں پر نظرِ ثانی نہیں کرتا کسی معاہدے پر پہنچنا بہت مشکل ہوگا‘۔ اس سے قبل امریکہ کے چیف مذاکرات کار کرسٹوفر ہل نے کہا تھا کہ معاہدے کے مسودے میں صرف ایک ایشو پر اتفاق ہونا باقی ہے۔ ان کا کہنا تھا ’صرف ایک اہم معاملے پر اتفاق باقی ہے جس میں ایک سے دو دن لگ سکتے ہیں‘۔ جنوبی کوریا کے نمائندے کا بھی کہنا ہے کہ فریقین میں ابھی اختلافات پائے جاتے ہیں اور آج کسی بریک تھرو کی امید کرنا فضول ہوگا‘۔ بیجنگ میں بی بی سی کے نمائندے جیمز رینلڈز کا کہنا ہے کہ یہ امر کہ مذاکرات میں شریک چھ ملک ایک معاہدے کے مسودے پر غور کر رہے ہیں ایک مثبت قدم کے طور پر دیکھا جائے گا۔ نامہ نگاروں کے مطابق حالیہ بات چیت سے یقیناً گزشتہ دسمبر میں ہونے والے بےنتیجہ مذاکرات کے مقابلے میں بہتری کی امید پیدا ہوئی ہے۔ | اسی بارے میں جوہری پروگرام پر مفاہمت کا امکان19 January, 2007 | آس پاس ’مزید عالمی دباؤ کا سامنا کرنا پڑےگا‘22 December, 2006 | آس پاس شمالی کوریا مذاکرات بے نتیجہ21 December, 2006 | آس پاس پابندیوں پر پہلی بار بات چیت 19 December, 2006 | آس پاس مذاکرات دوبارہ شروع18 December, 2006 | آس پاس ’اتوار کو مذاکرات کروں گا‘17 December, 2006 | آس پاس | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||