البرادعی کا بیان ’مددگار‘ نہیں | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
سفارتکاوں کا کہنا ہے کہ امریکہ جوہری توانائی کے عالمی ادارے کے سربراہ کے ایران کی یورینیم افزودگی کے حوالے سے بیان پر ان سے احتجاج کرے گا۔ آئی اے ای اے کے سربراہ محمد البرادعی نے کہا تھا کہ’ ایران یہ جانتا ہے کہ یورینیم کیسے افزودہ کی جاتی ہے اور اب کوشش یہ کی جانی چاہیے کہ وہ اس کی صنعتی پیمانے پر پیداوار شروع نہ کر سکے۔ ایک امریکی افسر نے گمنامی کی شرط پر خبر رساں ادارے رائٹرز کو بتایا ہے کہ امریکہ، فرانس، جرمنی اور برطانیہ کے نمائندے اسی ہفتے محمد البرداعی سے ملاقات کریں گے جس میں ان سے کہا جائے گا کہ ان کے خیالات ایران کے جوہری پروگرام کے خاتمے کے حوالے سے’مددگار‘ نہیں تھے اور ایسے بیانات سے ایران پر سختی کرنے میں مشکل ہو سکتی ہے۔ گزشتہ ہفتے محمد البردعی نے امریکی اخبار کو ایک انٹرویو میں کہا تھا’ اب توجہ اس امر پر مرکوز ہونی چاہیے کہ ایران صنعتی پیمانے پر پیداوار شروع نہ کر سکے اور ہمیں مکمل معائنے کی اجازت دے اور اس بات کا یقین کرنا بھی ضروری ہے کہ وہ معاہدے کی پاسداری کرے‘۔ آئی اے ای اے کے سربراہ ماضی میں یہ بھی کہہ چکے ہیں کہ ایران اگر ادارے کے انسپکٹرز کی نگرانی میں رہتا ہے تو وہ ایسی یورینیم تیار نہیں کر سکتا جو بم بنانے میں استعمال ہو سکتی ہو۔ یاد رہے کہ اقوامِ متحدہ کا جوہری توانائی کا ادارہ اپنے تازہ معائنے کی رپورٹ بدھ کو سلامتی کونسل کے سامنے پیش کرےگا۔ | اسی بارے میں ’جوہری ٹیکنالوجی بغیربریک کی ٹرین‘25 February, 2007 | آس پاس مشروط مذاکرات قبول نہیں:ایران20 February, 2007 | آس پاس ایران :البرادعی کی تجویز مسترد30 January, 2007 | آس پاس ایران مذاکرات کے لیئے تیار مگر۔۔01 June, 2006 | آس پاس | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||