BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
آر ایس ایس کیا ہے
آر ایس ایس کیا ہے
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: Wednesday, 27 June, 2007, 02:08 GMT 07:08 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
’ایٹمی سمگلنگ پہلے سے زیادہ‘
سینٹریفیوج
’سینٹریفیوج حاصل کرنا اب پہلے کی طرح مشکل نہیں رہا‘
ایٹمی ٹیکنالوجی اور معلومات فراہم کرنے والے خفیہ ذرائع سے جتنا خطرہ آج لاحق ہے اس سے پہلے کبھی نہ تھا۔ جوہری توانائی کے ماہرین نے اس خدشے کا اظہار امریکہ میں ایٹمی عدم پھیلاؤ کے موضوع پر ہونے والی ایک کانفرنس کے دوران کیا ہے۔

کانفرنس کارنیگی انڈؤمنٹ فار انٹرنیشنل پیس کے تحت واشنگٹن میں منعقد ہوئی۔ کانفرنس کے اختتام پر تیار کی گئی اپنی رپورٹ میں بی بی سی کے نامہ نگار جوناتھن مارکوس نے کہا ہے کہ ایٹمی ٹیکنالوجی اور اس کی مہارت کی بلیک مارکیٹ بدستور جاری ہے۔

جوہری توانائی کے جریدے ’نیوکلونکس ویک‘ کے ایک ایڈیٹر مارک ہبز نے کہا کہ نیوکلیئر سمگلنگ کے حوالے سے انہیں آج پہلے سے کہیں زیادہ فکر ہے۔

پانچ سال پہلے لیبیا، شمالی کوریا اور ایران کو پاکستان کے عبدالقدیر خان کے نیٹ ورک کی بابت جوہری توانائی کے بنیادی خاکوں اور ایٹمی ٹیکنالوجی کے پرزوں کی فراہمی کا جو انکشاف ہوا تھا اس کے بعد سے ایٹمی بلیک مارکیٹ کا معاملہ جوہری عدم پھیلاؤ کے ایجنڈے سے اوجھل ہوگیا ہے۔

ایک اور ماہر نے کہا کہ بلیک مارکیٹ پر قابو پانے کی کوششوں میں دم نہیں رہا ہے۔

ڈاکٹر خان نیٹ ورک
 عبدالقدیر خان کے نیٹ ورک کی بابت جوہری توانائی کے بنیادی خاکوں اور ایٹمی ٹیکنالوجی کے پرزوں کی فراہمی کا جو انکشاف ہوا تھا اس کے بعد سے ایٹمی بلیک مارکیٹ کا معاملہ جوہری عدم پھیلاؤ کے ایجنڈے سے اوجھل ہوگیا ہے

ہر وہ ملک جو چوری چھپے یورینیئم کی افزودگی کی صلاحیت پیدا کرنا چاہتا ہے اس کے سامنے سب سے بڑا مسئلہ یہ ہوتا ہے کہ سینٹریفیوج کی ٹیکنالوجی کیسے حاصل کی جائے۔لیکن اس ٹیکنالوجی کو حاصل کرنا اب پہلے کی طرح مشکل نہیں رہا ہے۔

مارک ہِبز نے ایک ایسے سینٹریفیوج کا ڈیزائن کانفرنس میں دکھایا جو انیس سو ساٹھ کی دہائی میں یورپی سائنس دانوں نے برس ہا برس کی کوششوں کے بعد تیار کیا تھا۔ یہ ڈیزائن 1974 میں ’پاکستان نے چرا لیا تھا‘ اور بعد میں ڈاکٹر عبدالقدیر خان نے اسے فروخت کیا۔

اب یہ ڈیزائن آسانی سے دستیاب ہے اور جس کے پاس معقول رقم ہو اسے خرید سکتا ہے۔

کانفرنس میں بتایا گیا کہ سمگلر جوہری بلیک مارکیٹ پر نظر رکھنے والوں سے ہمیشہ ایک قدم آگے چلتے ہیں اور خطرہ یہ ہے کہ دنیا میں عام استعمال کے لیے جوہری توانائی کی مانگ بڑھے گی اوراگر اس مانگ کو پورا کرنے کے قانونی طریقے نہیں ہونگے تو غیر قانونی سمگلنگ کا مسئلہ بد سے بدتر ہوتا جائےگا۔

جوہری مواد،’ایس آر اوز‘ جاری
جوہری مواد کی برآمد پر ضوابط سخت
ڈاکٹر قدیرسی آئی اے کا کردار
ڈاکٹرقدیر کو سی آئی اے نے گرفتاری سے بچایا
ایٹمی عدم پھیلاؤ تاریک ایٹمی مستقبل
ایٹمی عدم پھیلاؤ کانفرنس نے کیا دیا؟
خمیازہ کیا ہوگا؟
جوہری پھیلاؤ کے ثبوت مل گئے تو۔۔۔
اسی بارے میں
کیا معاملہ ختم ہو گیا ہے
07 February, 2004 | آس پاس
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد