’ایٹمی سمگلنگ پہلے سے زیادہ‘ | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
ایٹمی ٹیکنالوجی اور معلومات فراہم کرنے والے خفیہ ذرائع سے جتنا خطرہ آج لاحق ہے اس سے پہلے کبھی نہ تھا۔ جوہری توانائی کے ماہرین نے اس خدشے کا اظہار امریکہ میں ایٹمی عدم پھیلاؤ کے موضوع پر ہونے والی ایک کانفرنس کے دوران کیا ہے۔ کانفرنس کارنیگی انڈؤمنٹ فار انٹرنیشنل پیس کے تحت واشنگٹن میں منعقد ہوئی۔ کانفرنس کے اختتام پر تیار کی گئی اپنی رپورٹ میں بی بی سی کے نامہ نگار جوناتھن مارکوس نے کہا ہے کہ ایٹمی ٹیکنالوجی اور اس کی مہارت کی بلیک مارکیٹ بدستور جاری ہے۔ جوہری توانائی کے جریدے ’نیوکلونکس ویک‘ کے ایک ایڈیٹر مارک ہبز نے کہا کہ نیوکلیئر سمگلنگ کے حوالے سے انہیں آج پہلے سے کہیں زیادہ فکر ہے۔ پانچ سال پہلے لیبیا، شمالی کوریا اور ایران کو پاکستان کے عبدالقدیر خان کے نیٹ ورک کی بابت جوہری توانائی کے بنیادی خاکوں اور ایٹمی ٹیکنالوجی کے پرزوں کی فراہمی کا جو انکشاف ہوا تھا اس کے بعد سے ایٹمی بلیک مارکیٹ کا معاملہ جوہری عدم پھیلاؤ کے ایجنڈے سے اوجھل ہوگیا ہے۔ ایک اور ماہر نے کہا کہ بلیک مارکیٹ پر قابو پانے کی کوششوں میں دم نہیں رہا ہے۔
ہر وہ ملک جو چوری چھپے یورینیئم کی افزودگی کی صلاحیت پیدا کرنا چاہتا ہے اس کے سامنے سب سے بڑا مسئلہ یہ ہوتا ہے کہ سینٹریفیوج کی ٹیکنالوجی کیسے حاصل کی جائے۔لیکن اس ٹیکنالوجی کو حاصل کرنا اب پہلے کی طرح مشکل نہیں رہا ہے۔ مارک ہِبز نے ایک ایسے سینٹریفیوج کا ڈیزائن کانفرنس میں دکھایا جو انیس سو ساٹھ کی دہائی میں یورپی سائنس دانوں نے برس ہا برس کی کوششوں کے بعد تیار کیا تھا۔ یہ ڈیزائن 1974 میں ’پاکستان نے چرا لیا تھا‘ اور بعد میں ڈاکٹر عبدالقدیر خان نے اسے فروخت کیا۔ اب یہ ڈیزائن آسانی سے دستیاب ہے اور جس کے پاس معقول رقم ہو اسے خرید سکتا ہے۔ کانفرنس میں بتایا گیا کہ سمگلر جوہری بلیک مارکیٹ پر نظر رکھنے والوں سے ہمیشہ ایک قدم آگے چلتے ہیں اور خطرہ یہ ہے کہ دنیا میں عام استعمال کے لیے جوہری توانائی کی مانگ بڑھے گی اوراگر اس مانگ کو پورا کرنے کے قانونی طریقے نہیں ہونگے تو غیر قانونی سمگلنگ کا مسئلہ بد سے بدتر ہوتا جائےگا۔ |
اسی بارے میں ’یہ سب امریکی پروپیگنڈہ ہے‘10 February, 2004 | پاکستان سینٹریفیوجز باہر بھیجنے پر غور25 March, 2005 | پاکستان جوہری پھیلاؤ میں ملوث نہیں: نواز02 February, 2006 | پاکستان ڈاکٹر قدیر خان کے راز صیغۂ راز میں26 May, 2006 | پاکستان کیا معاملہ ختم ہو گیا ہے07 February, 2004 | آس پاس ’قدیر خان کی معافی پر بات کریں گے‘06 February, 2004 | آس پاس ’راز افشا نہیں ہوسکتے، مگر۔۔۔‘23 December, 2003 | پاکستان | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||